مارکو روبیو کا دعویٰ: ایران کے خلاف مشن ہفتوں میں ختم ہو جائے گا، زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں

مارکو روبیو کا دعویٰ: ایران کے خلاف مشن ہفتوں میں ختم ہو جائے گا، زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی اپنے اہداف کے حصول کے بہت قریب ہے اور یہ جنگ مہینوں نہیں بلکہ محض چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی۔

فرانس میں جی سیون (G7) وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کو اپنے فوجی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایران میں باقاعدہ زمینی فوج (Ground Troops) بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مطلوبہ نتائج فضائی اور تکنیکی برتری سے حاصل کیے جا رہے ہیں۔

مارکو روبیو کے مطابق آپریشن شیڈول کے عین مطابق ہے اور امریکی حکمتِ عملی کا بنیادی محور ایران کی میزائل سازی، ڈرون ٹیکنالوجی، بحریہ اور فضائیہ کی صلاحیتوں کو مفلوج کرنا ہے تاکہ وہ عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ نہ رہ سکے۔

اگرچہ خطے میں ہزاروں میرینز اور فضائی دستے تعینات کیے گئے ہیں، تاہم روبیو نے وضاحت کی کہ یہ اقدام صدر ٹرمپ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دفاعی اختیارات فراہم کرنے کے لیے ہے، نہ کہ کسی بڑے پیمانے کی زمینی جنگ شروع کرنے کے لیے۔

دوسریجانب امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کو اپنی توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے بچنے کے لیے 6 اپریل تک کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے

۔ بین الاقوامی مبصرین مارکو روبیو کے اس اعتماد بھرے بیان کو تہران پر نفسیاتی اور سفارتی دباؤ بڑھانے کی ایک کڑی قرار دے رہے ہیں تاکہ اسے 6 اپریل کی مہلت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر جمی ہیں کہ آیا یہ “چند ہفتے” واقعی خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گے یا کشیدگی کا کوئی نیا رخ سامنے آئے گا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں بڑی کمی، 59 فیصد امریکی عوام صدر کی پالیسیوں سے غیر مطمئن

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *