سکولوں کے حوالے سے نئی پابندی عائد

سکولوں کے حوالے سے نئی پابندی عائد

سینیٹ نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں کتابوں اور تعلیمی مواد کی پلاسٹک ریپنگ پر پابندی کا بل منظور کر لیا ہے، جسے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے پیش کیا تھا۔

سینیٹر شیری رحمان نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک ہمارے شہروں، ندی نالوں اور طوفانی نالوں کو بند کر رہا ہے اور کتابوں کو پلاسٹک میں لپیٹنا ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا میں ہر سال 430 ملین ٹن پلاسٹک پیدا ہوتا ہے جس میں سے صرف 9 فیصد ری سائیکل کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں سالانہ 30 ملین ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے لیکن صرف 1 فیصد ری سائیکل ہوتا ہے۔

سینیٹر نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 55 ارب پلاسٹک کے تھیلے استعمال ہوتے ہیں اور ساحلی علاقوں میں زیادہ تر فضلہ پلاسٹک پر مشتمل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پلاسٹک خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو رہا ہے اور صحت پر سنگین اثرات مرتب کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا سکولز اور کالجز میں چھٹیوں کے حوالے سے نیا شیڈول جاری

سینیٹر شیری رحمان نے مزید کہا کہ سینیٹ کے ارکان پہلے ہی شیشے کی بوتلوں کا استعمال کرکے مثال قائم کر چکے ہیں اور یہ بل ماحول دوست متبادل کو فروغ دینے اور قومی سطح پر ذمہ دارانہ رویے کا پیغام دینے کی کوشش ہے۔

پی پی سینیٹر نے کتب فروشوں اور بک اسٹورز سے اپیل کی کہ وہ پلاسٹک میں کتابیں لپیٹنا بند کریں تاکہ ماحولیات اور صحت عامہ کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *