سندھ حکومت نے گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس کے بعد گڈ گورننس، شہری ٹرانسپورٹ اور ماحولیاتی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کی منظوری دیتے ہوئے ای چالان سے متعلق جرائم پر خصوصی ٹریفک عدالتوں کے قیام کی منظوری دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے صوبے میں ای چالان سے متعلق جرائم کے لیے خصوصی ٹریفک عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اورروڈ سیفٹی کے لیے ایک اہم قدم میں، کابینہ نے صوبے بھر میں موجودہ کنزیومر کورٹس کو نئے ای چالان سسٹم کے تحت ٹریفک کورٹس کے طور پر کام کرنے کا اختیار دینے کا فیصلہ کیا۔
تاہم فیصلہ سندھ ہائی کورٹ کی منظوری سے مشروط ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وضاحت کی کہ ہائی کورٹ سے مشاورت کے بعد ہر ضلع میں صارف عدالتیں ٹریفک سے متعلق جرائم پر دائرہ اختیار حاصل کریں گی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ “موجودہ عدالتوں کو بااختیار بنانا نئے عدالتی ڈھانچے کی تعمیر کے بغیر ٹریفک خلاف ورزیوں کے خصوصی اور تیز رفتار ٹرائل کی اجازت دیتا ہے۔”
سندھ کے سیف سٹی اور ٹریفک پولیسنگ کے اقدامات کے تحت کیمرہ بیسڈ انفورسمنٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے صوبے بھر میں جاری کیے گئے ای چالان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حکام رپورٹ کرتے ہیں کہ اب دسیوں ہزار ڈیجیٹل حوالہ جات ماہانہ تیار کیے جاتے ہیں، جو روایتی دیوانی اور فوجداری عدالتوں کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کا کفایت شعاری کی جانب بڑا قدم،سرکاری گاڑیوں کےلیے نئے ضوابط مقرر

