پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے اندرونِ لاہور کے تاریخی علاقے پانی والا تالاب میں بسنت کی تقریبات میں شرکت کی، جہاں رنگ برنگی پتنگوں، روایتی کھانوں اور ثقافتی ماحول نے لاہور کی قدیم تہذیب کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔
اس موقع پر مہمانوں کی تواضع دیسی اور روایتی پکوانوں سے کی گئی، جن میں ہریسہ، مٹن چنے، مٹن، انڈوں کا حلوہ اور مٹن پلاؤ شامل تھےشرکا نے نہ صرف بسنت کی خوشیوں سے لطف اٹھایا بلکہ لاہوری مہمان نوازی کی بھی بھرپور مثال دیکھی۔
تقریب کے دوران نواز شریف نے پتنگ بازی کا مشاہدہ کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ آج کی ڈور نہایت شاندار ہے، ماضی میں ڈور بہت موٹی ہوتی تھی، تاہم اب اسے بہتر اور محفوظ انداز میں تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان ظاہر کیا کہ لاہوری عوام حکومت کی جانب سے طے کردہ ایس او پیز کے تحت بسنت منا رہے ہیں
دوسری جانب نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے پنجاب کے وزیرِ اقلیتی امور رمیش اروڑا نے کہا کہ لاہوریوں کو بخوبی علم ہے کہ ان کی وزیراعلیٰ کا مقصد پنجاب کے عوام کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بسنت کی بحالی نہ صرف ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہے بلکہ سیاحت اور معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ رمیش اروڑا کے مطابق لاہور کا “بوکاٹا” اب دنیا بھر میں پہچانا جا رہا ہے اور مختلف ممالک سے لوگ خصوصی طور پر بسنت منانے لاہور پہنچے ہیں۔