ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام ملک کے قومی دفاع سے جڑا ہوا معاملہ ہے اور اس پر کسی بھی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور میزائل پروگرام کو ہر صورت میں مذاکرات کے دائرے سے باہر رکھا جائے گا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں جنگ کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران امن کا خواہاں ہے، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں ایران کا ردعمل براہِ راست امریکی فوجی اہداف تک محدود ہوگا اور خطے کے دیگر ممالک کو اس تنازع میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے جوہری پروگرام سے متعلق مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ یورینیم افزودگی ایران کا ناقابلِ تنسیخ اور قانونی حق ہے، جسے کسی دباؤ کے تحت ترک نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی جوہری سرگرمیاں جاری رکھے گا اور یہ صلاحیت کسی بھی بمباری یا فوجی کارروائی سے ختم نہیں کی جا سکتی۔
تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تہران جوہری افزودگی سے متعلق ایسے ٹھوس اور قابلِ اعتماد ضمانتی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے، جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہوں۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عباس عراقچی نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی اور انسانی جانوں کا ضیاع درحقیقت کھلی نسل کشی کے مترادف ہے۔