آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا پہلا سیمی فائنل آج ایڈن گارڈنز کولکتہ میں جنوبی افریقا اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا جارہا ہے۔
تفصٰلات کے مطابق ٹی 20 ورلڈکپ کا اہم مقابلہ آج ہونے کو ہے ، جہاں جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں فائنل میں جگہ بنانے کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔
ایونٹ میں جنوبی افریقا سیمی فائنل میں ناقابل شکست ٹیم کے طور پر داخل ہوئی، ٹی 20 ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے میں جنوبی افریقہ نے اپنے تمام 4 میچز میں فتح حاصل کی، اُس نے نیوزی لینڈ، افغانستان، متحدہ عرب امارات اور کینیڈا کو شکست دی ۔
سُپر ایٹ مرحلے میں جنوبی افریقا نے بھارت، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کو شکست سے دو چار کیا۔
جنوبی افریقہ اپنی چوکرزکی چھاپ مٹانے کی کوشش کرے گا، جنوبی افریقہ کے لیے یہ سیمی فائنل محض ایک میچ نہیں بلکہ اپنی تاریخ بدلنے کا ایک سنہری موقع ہے
ان تمام کامیابیوں کے باوجود جنوبی افریقا کی ٹیم اکثر ناک آؤٹ راؤنڈ میں اپنا ردھم کھو بیٹھتی ہے اور فیورٹ ہونے کے باوجود ایونٹ سے باہر ہوجاتی ہے۔
دوسری جانب نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پہلے مرحلے میں 3 میچز میں کامیابی حاصل کی جبکہ سُپر ایٹ مرحلے میں ایک، ہارا، ایک جیتا اور ایک غیرفیصلہ کن رہا، اُن کی ٹیم کی خاص بات آل راؤنڈرزہیں، جن میں ڈیرل مچل، گلین فلپس، مچل سینٹنر، میک کونچی اور چیپمین شامل ہیں۔
نیوزی لینڈ اپنی اس شناخت کو مزید مضبوط کرنا چاہے گا کہ وہ آئی سی سی کے بڑے ٹورنامنٹس کی سب سے مستقل مزاج ٹیم ہے۔
اس سے قبل آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے دونوں سیمی فائنل میچز کے لیے آفیشلز کا اعلان بھی کیا گیا ۔
اس میچ میں رچرڈ ایلنگ ورتھ اور الیکس وارف آن فیلڈ امپائرز کی ذمہ داریاں انجام دیں گے جبکہ نتن مینن کو تھرڈ امپائر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ راڈ ٹکر فورتھ امپائر ہوں گے، میچ ریفری کی ذمہ داری جواگل سری ناتھ کو سونپی گئی ہے۔
تاریخ کے مقابلوں پر نظر ڈالی جائے تو ٹی 20 ورلڈ کپ 2007 (کوارٹر فائنل) میں جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ کو 6 وکٹوں سے شکست دی تھی ، 2009 میں جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ کو 1 رن سے ہرایا جبکہ 2010 میں جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ کو 13 رنز سے شکست دی۔
2014 میں جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ کو 2 رنز سے مات دی اور ورلڈکپ 2026 (گروپ مرحلہ) میں جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ کو 7 وکٹوں سے شکست دی، مجموعی طور پران پانچ مقابلوں میں جنوبی افریقہ کو 5 مرتبہ فتح حاصل ہوئی جبکہ نیوزی لینڈ کو ایک بھی کامیابی نہیں ملی اورآج یہاں تاریخ بدلنے کیلئے کوشش کی جائے گی ۔