بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے اور ملک بھر میں جمہوری سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ دارالحکومت ڈھاکہ سمیت مختلف شہروں میں مرد و خواتین ووٹرز صبح سویرے ہی پولنگ اسٹیشنز پہنچ گئے۔ پولنگ کا عمل پرامن انداز میں جاری ہے جبکہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اپنے حلقے میں ووٹ کاسٹ کر دیا ہے۔ ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور آج کا دن بنگلہ دیش کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ‘بی این پی’ کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں اور ان کے حامی بھی پُرامید دکھائی دے رہے ہیں۔
ملک بھر میں 300 پارلیمانی نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے اور حکومت بنانے کے لیے 151 نشستوں پر اکثریت درکار ہے۔ ان انتخابات میں 299 نشستوں پر 50 سیاسی جماعتوں اور 249 آزاد امیدواروں سمیت مجموعی طور پر 1981 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ پارلیمنٹ میں 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔
عوامی لیگ پابندی کے باعث انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکی، تاہم اگست 2024 میں سیاسی منظرنامے میں اہم کردار ادا کرنے والی جین زی پر مشتمل نیشنل سیٹیزن پارٹی جماعت اسلامی کے اتحاد میں شامل ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہی نوجوان ووٹرز اس انتخاب کا رخ موڑ سکتے ہیں اور انہیں ‘کنگ میکر’ قرار دیا جا رہا ہے۔
رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ ہے جن میں 6 کروڑ 48 لاکھ مرد، 6 کروڑ 29 لاکھ خواتین اور 1,232 خواجہ سرا ووٹرز شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں 42,779 پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں، جن میں سے 21,506 کو حساس قرار دے کر خصوصی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار انتخابی ڈیوٹی پر تعینات ہیں جبکہ فوج بھی اہم مقامات پر موجود ہے۔
انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے 69 ریٹرننگ افسران اور 598 اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ 7 لاکھ 85 ہزار 225 پولنگ اہلکار ووٹنگ کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ انتخابات کو آزاد، شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے تمام اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور شہری بلا خوف و خطر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس بار عام انتخابات کے ساتھ ساتھ حالیہ قانون سازی پر عوامی رائے جانچنے کے لیے ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے، جس کے باعث ووٹرز کی دلچسپی مزید بڑھ گئی ہے۔
پولنگ پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر ساڑھے 3 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق نوجوانوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے، جو جمہوری عمل پر عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔
اب نظریں نتائج پر جمی ہیں۔ کیا بی این پی اقتدار میں واپسی کرے گی یا جماعت اسلامی کا اتحاد حکومت بنانے میں کامیاب ہوگا؟ بنگلہ دیش کی سیاست کا اگلا باب چند گھنٹوں میں کھلنے والا ہے۔