عالمی طاقتوں کے درمیان پاکستان بڑا ثالث بن گیا،دنیا کی نظریں اب اسلام آباد پر لگ گئیں

عالمی طاقتوں کے درمیان پاکستان بڑا ثالث بن گیا،دنیا کی نظریں اب اسلام آباد پر لگ گئیں

ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کے بعد پاکستان ایک بار پھر عالمی سطح پر ایک کلیدی اور بااعتماد سفارتی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ پاکستان نہ صرف اس تنازع میں توازن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ اب امن کے قیام میں مرکزی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی سفارتی کامیابی ہوگی—ایسی کامیابی جو 1972 میں امریکا اور چین کے درمیان خفیہ رابطوں میں پاکستان کے کردار کے بعد سب سے بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

پاکستان اس وقت واحد ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ مؤثر اور براہ راست رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہی منفرد حیثیت اسے ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث بناتی ہے، جس پر دونوں فریق اعتماد کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی سے گر گئیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے سے پاکستان کو نہ صرف علاقائی استحکام ملے گا بلکہ داخلی سطح پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان، جہاں دنیا کی دوسری بڑی شیعہ آبادی موجود ہے، نے کشیدگی کے باوجود ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنایا اور داخلی استحکام کو برقرار رکھا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستان نے ابتدا ہی سے فعال سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان متعدد اہم پیغامات کا تبادلہ کرایا، جو ممکنہ جنگ بندی اور مذاکرات کی بنیاد بنا۔

دوسری جانب، پاکستان کی قیادت نے عالمی سطح پر بھی بھرپور سفارتی روابط استوار کیے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ ہفتوں میں مشرق وسطیٰ سمیت اہم عالمی رہنماؤں سے درجنوں رابطے کیے، جس سے پاکستان کی سفارتی سنجیدگی اور قائدانہ کردار واضح ہوتا ہے۔

امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری بھی پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان قریبی روابط نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو نئی بنیاد فراہم کی، جس کا فائدہ اب خطے کے امن کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بیرون ملک جانیوالے پاکستانیوں کیلئے پروازوں سے متعلق اہم خبر

 پاکستان کا ایران، سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنا اس کی سب سے بڑی سفارتی طاقت ہے۔ یہی توازن اسے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثالث بناتا ہے، جبکہ پاکستان کسی بھی غیر ملکی فوجی دباؤ سے آزاد ہو کر فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

 پاکستان نے نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کیا بلکہ خطے کو بڑی جنگ سے بچانے کے لیے بیک چینل سفارتکاری کے ذریعے انتہائی دانشمندانہ حکمت عملی اپنائی۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست میں ایک بار پھر اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر اپنی پہچان مضبوط کر لے گا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *