سوشل میڈیا پر موجودہ حکومت کی جانب سے خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے پراپیگنڈا جار ی ہے کہ اگر سابق وزیر اعظم عمران خان ہوتے تو تیل کی قیمت میں اضافہ نہ ہوتا جس پر عمران خان کے دورِ حکومت میں پٹرول قیمت بڑھانے پر عمران خان کا وائرل ویڈیو سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پرجو لوگ یہ پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ اگر عمران خان ہوتے تو تیل کی قیمت میں اضافہ نہ ہوتاوہ عمران خان کے دور حکومت میں پیٹرول کی قیمت بڑھانے پر عمران خان کا دیا گیا بیان اور منطق خود ملاحظہ فرما لیں۔
وائرل ویڈیو میں عمران خان قوم سے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “جب سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں پیٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا، تو انہوں نے قوم سے ایک ہنگامی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان تیل پیدا کرنے والا ملک نہیں ہے، اس لیے جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو حکومت کے پاس قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا”۔؎
سابق وزیر اعظم پٹرول قیمتوں میں اضافے پر قوم سے اکثر اپنے خطاب میں اعداد و شمار پیش کرتے تھے کہ بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت اب بھی سب سے کم ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران نے واضح کیا تھا کہ حکومت پیٹرول پر بھاری سبسڈی دے رہی ہے جس سے قومی خزانے پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے”۔
موجودہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے اضافے کے بعد موجودہ حکومت کو بھی انہی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم اس وقت حالات مزید پیچیدہ ہو چکے ہیں کیونکہ: ایران، امریکہ جنگ کی وجہ سے سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے۔
اورحکومت اب پیٹرول کی بچت کے لیے دفاتر کو گھروں سے چلانے جیسے اقدامات پر غور کر رہی ہے اورسیاسی اختلافات سے ہٹ کر، پاکستان کی ہر حکومت کے لیے پیٹرول کی قیمتوں کا تعین ایک “سیاسی خودکشی” کے مترادف رہا ہے، لیکن عالمی معاشی دباؤ اکثر حکمرانوں کو یہ کڑوا گھونٹ بھرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔