رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے لیے صوبہ بھر میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے جامع اور منظم تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے اشیائے خورونوش کی مناسب قیمتوں پر دستیابی، مستحق افراد کے لیے مفت و سبسڈائزڈ سہولیات اور قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق صوبے بھر میں مجموعی طور پر 100 رمضان بازار قائم کیے جائیں گے، جہاں عوام کو روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں سے کم قیمت پر فراہم کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ پنجاب کی 152 تحصیلوں میں 1,216 دسترخوان لگائے جائیں گے، جہاں مستحق اور کم آمدنی والے افراد کے لیے افطار اور سحری کا انتظام کیا جائے گا۔
حکومت پنجاب نے 47 ارب روپے کی خطیر لاگت سے رمضان نگہبان پیکج کے تحت مستحق خاندانوں میں خصوصی کارڈز کی تقسیم کا آغاز بھی کر دیا ہے۔
ان کارڈز کے ذریعے غریب اور ضرورت مند افراد کو براہ راست مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ رمضان المبارک کے دوران اپنی بنیادی ضروریات باعزت طریقے سے پوری کر سکیں۔
سبسڈائزڈ آٹے کی فراہمی کے لیے صوبہ بھر میں 120 سیل پوائنٹس قائم کیے جائیں گے، جہاں 10 کلو آٹے کا تھیلا صرف 850 روپے میں دستیاب ہوگا۔
رمضان بازاروں اور سیل پوائنٹس پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جس کے تحت 20 بنیادی اشیاء پر 20 فیصد تک ڈسکاؤنٹ دیا جائے گا۔
عوام کو مزید ریلیف فراہم کرنے کے لیے مرغی کا گوشت سرکاری نرخ سے 15 روپے فی کلو کم قیمت پر فروخت کیا جائے گا، جبکہ 105 بڑی سپر اسٹور چینز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ رمضان کے دوران ہول سیل ریٹ پر خصوصی کاؤنٹر قائم کریں۔ اس کے علاوہ چینی کی زیادہ سے زیادہ قیمت 160 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے تاکہ ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔