پنجاب حکومت نے اپنی چھت اپنا گھر سکیم کے تحت بلاسود ہاؤسنگ قرضوں کے لیے نیا ڈیجیٹل ماڈل منظور کر لیا ہے، جس سے سکیم کے عمل میں شفافیت اور رفتار دونوں میں اضافہ ہوگا۔
نئے نظام کے تحت بینک آف پنجاب پہلی بار براہِ راست بلاسود ہاؤسنگ قرضے جاری کرے گا، جبکہ قرضوں کی مجموعی رقم 60 ارب روپے تک پہنچنے کے بعد مزید 40 ہزار کم لاگت گھر تعمیر کیے جائیں گے۔
نیا ماڈل مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگا اور انسانی مداخلت کو کم سے کم کیا جائے گا، قرضہ حاصل کرنے کے لیے زمین کی تصدیق لینڈ ریکارڈز سے کی جائے گی اور رقم کی ادائیگی مرحلہ وار تعمیر کے ساتھ منسلک ہوگی۔
اس کے علاوہ حکومت پنجاب بینک کو مالی تحفظ فراہم کرے گی اور 9 فیصد کریڈٹ گارنٹی بھی منظور کی گئی ہے، جس سے قرض کی فراہمی میں اعتماد بڑھے گا۔
اس سے قبل بینک آف پنجاب براہِ راست قرضہ جاری نہیں کرتا تھا اور سکیم سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے تحت چلائی جاتی تھی، جس میں حکومت فنڈنگ اور سبسڈی فراہم کرتی تھی۔
اب نئی پالیسی کے مطابق رقم براہِ راست بینک کی بیلنس شیٹ سے نکل کر ڈیجیٹل پلیٹ فارم (PITB) پر منتقل کی جائے گی، جس سے پراسیس زیادہ تیز اور شفاف ہو جائے گا۔
حکام کے مطابق اب تک ایک لاکھ سے زائد خاندان سکیم سے مستفید ہو چکے ہیں اور نئی اصلاحات کے بعد مزید گھر جلد تعمیر ہوں گے۔ اس قدم سے نہ صرف کم لاگت ہاؤسنگ کی فراہمی میں اضافہ ہوگا بلکہ شہریوں کو سہولت، شفافیت اور بروقت قرضوں کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی۔
یہ اقدام پنجاب حکومت کی رہائشی سہولتوں میں ڈیجیٹل انقلاب کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔