بٹ کوائن کا اصل خالق کون ؟ شناخت سامنے آگئی، بڑا معمہ حل

بٹ کوائن کا اصل خالق کون ؟ شناخت سامنے آگئی، بڑا معمہ حل

ڈیجیٹل کرنسی کی دنیا کا سب سے بڑا معمہ ’ساتوشی ناکاموٹو‘ کی اصل شناخت کے حوالے سے ایک سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بٹ کوائن کا اصل خالق کوئی اور نہیں بلکہ برطانیہ کے معروف ماہرِ ٹیکنالوجی ایڈم بیک ہیں۔

ایک تازہ ترین امریکی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بٹ کوائن کی تخلیق سے وابستہ تمام تر تکنیکی شواہد اور تاریخی کڑیاں اسی برطانوی ماہر کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جس نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں دُنیا کی بڑی سفارتی بیٹھک، مذاکراتی وفود آج پہنچیں گے، امریکا، ایران پاکستانی میزبانی میں آمنے سامنے

واضح رہے کہ یہ سلسلہ 2008 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب ساتوشی ناکاموٹو کے نام سے ایک تحقیقی مقالہ منظرِ عام پر آیا، جس میں ایک ایسے غیر مرکزی مالیاتی نظام کا تصور پیش کیا گیا جو بینکوں یا حکومتوں کے کنٹرول سے آزاد ہو۔

2009 میں پہلا بٹ کوائن تیار کیا گیا اور یہ ٹیکنالوجی تیزی سے مقبول ہوئی، لیکن جب اس کی شہرت عروج پر پہنچی تو 2011 میں ساتوشی ناکاموٹو نامی یہ کردار اچانک منظرِ عام سے غائب ہو گیا اور تب سے اب تک اس کی طرف سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

ایڈم بیک ماضی میں کئی بار ان دعوؤں کی تردید کر چکے ہیں کہ وہ ساتوشی ناکاموٹو ہیں، لیکن تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ان کے انکار کے باوجود موجود حقائق اس قدر مضبوط ہیں کہ انہیں جھٹلانا مشکل معلوم ہوتا ہے۔

ایڈم بیک کا کام ‘ہیش کیش’  پر مبنی تھا، جو بٹ کوائن کے مائننگ نظام کی بنیاد بنا۔ 9 اپریل 2026 کی یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ دنیا بھر کے سرمایہ کار اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اب ایڈم بیک کو ہی اس انقلابی ٹیکنالوجی کا حقیقی بانی تسلیم کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:کرپٹو مارکیٹ میں بھونچال، بٹ کوائن 7 ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

ساتوشی ناکاموٹو کی شناخت چھپانے کا مقصد شاید بٹ کوائن کو ایک ایسی ‘کمیونٹی ڈریون’ کرنسی بنانا تھا جس کا کوئی ایک مالک نہ ہو تاکہ اسے قانونی یا حکومتی کارروائیوں سے بچایا جا سکے۔

اب تک کریک رائٹ سمیت کئی افراد نے ساتوشی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن کسی کے پاس بھی ساتوشی کے ابتدائی والٹس کی ‘پرائیویٹ کیز‘ نہ ہونے کے باعث وہ خود کو ثابت نہیں کر سکے۔ ایڈم بیک کا نام اس لیے اہم ہے کیونکہ وہ ان چند اولین افراد میں شامل تھے جن کا ذکر خود ساتوشی نے اپنے اصل مقالے میں کیا تھا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *