وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ باہمی تعاون کو فروغ دے کر گلوبل فوڈ ویلیو چین میں ایک مضبوط اور مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے پاس زرعی شعبے میں وسیع تجربہ، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل موجود ہیں، جنہیں یکجا کر کے نہ صرف دوطرفہ معاشی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر خوراک کی پیداوار اور برآمدات میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بات وزیراعظم نے ترکیہ کی زرعی ٹیکنالوجیز کلسٹر (TUME) کے بورڈ چیئرمین عبدالقادر قاراگوز (Abdulkadir Karagöz) کی سربراہی میں چار رکنی ترک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان زراعت، لائیو اسٹاک اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان زرعی شعبے میں بے پناہ صلاحیتوں اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، تاہم ان وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ سمیت دوست ممالک کے تجربات اور زرعی ماہرین سے استفادہ کر کے پاکستان کے زرعی شعبے میں جدت لائی جا سکتی ہے، جس سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ کسانوں کی آمدن میں بھی بہتری آئے گی۔
وزیراعظم نے اس موقع پر پاکستان اور ترکیہ کے مثالی برادرانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اعتماد اور باہمی احترام معاشی شراکت داری کے فروغ کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ نے زرعی اجناس اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نمایاں ترقی کی ہے اور پاکستان بھی اسی طرز پر اپنے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
ملاقات کے دوران TUME کے بورڈ چیئرمین عبدالقادر قاراگوز نے اپنے ادارے کی جانب سے زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے استعمال کی جانے والی جدید ٹیکنالوجیز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ منصوبوں کے ذریعے نہ صرف مقامی ضروریات پوری کر سکتے ہیں بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی اپنی موجودگی مضبوط بنا سکتے ہیں۔
عبدالقادر قاراگوز کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کی قیادت کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کاروباری برادری کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور اس سے نجی شعبے کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔