وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس، ورکنگ دن کم کرنے اور ورک فرام ہوم پلان تیار

وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس، ورکنگ دن کم کرنے اور ورک فرام ہوم پلان تیار

وزیراعظم کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات کے اسٹاک اور کھپت کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور سرکاری سطح پر کفایت شعاری اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی کابینہ نے کفایت شعاری اقدامات کے تحت دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ بھی کر لیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ملک میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کے اسٹاک اور کھپت کے حوالے سے ہائی پاورڈ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ کے دوران عالمی صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور سرکاری سطح پر کفایت شعاری اقدامات سے متعلق آگاہ کیا گیا۔

اجلاس میں آفسز، تعلیمی اداروں اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے ورکنگ دنوں میں کمی کا پلان تیار کیا گیا تاکہ ایندھن کے اسٹاک کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں ورچوئل نظام تعلیم متعارف کرانے اور دفاتر کے لیے ورک فرام ہوم کا پلان بھی طے کیا گیا ہے تاکہ ایندھن کی طلب میں کمی لائی جا سکے اور دستیاب اسٹاک کا مؤثر استعمال ممکن ہو سکے۔

ذرائع کے مطابق اس پلان پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی ذخیرہ اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت کریک ڈاؤن کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے بچت اور کفایت شعاری کیلئے عملی حکمت عملی بنانے کے لئے متعلقہ حکام کو 48 گھنٹوں کی مہلت دی ہے، عطا اللہ تارڑ

وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے مشاورتی اجلاس میں اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، اویس لغاری، علی پرویز ملک، عطا اللّٰہ تارڑ، مصدق مسعود ملک اور ہارون اختر نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ چاروں صوبوں کے نمائندے اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ سرکاری حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم آزاد کشمیر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران مستحق اور غریب شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی تجاویز اور سفارشات کی بنیاد پر حتمی لائحہ عمل طے کیا گیا۔

اجلاس میں خلیج میں جاری جنگ کے ممکنہ معاشی اثرات اور ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ علاقائی اور عالمی صورتحال کے پاکستان کی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جبکہ توانائی کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے چیلنجز بھی درپیش ہو سکتے ہیں۔

اجلاس کے دوران موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں معاشی استحکام کے لیے بروقت اقدامات کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ مشکل صورتحال میں حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے نوجوان کرکٹر نے کرکٹ کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا، سوشل میڈیا پر ٹوٹے دل کے ’ایموجی‘ کے ساتھ پیغام وائرل

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ، منتخب نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے وسائل کے مؤثر استعمال اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تمام سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی تلقین بھی کی۔

ذرائع کے مطابق کفایت شعاری اور بچت سے متعلق ہدایات صنعتی اور زرعی شعبوں پر لاگو نہ کرنے کا پلان بھی تیار کر لیا گیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *