امریکی افواج کی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران بھر میں تقریباً 2 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا جاچکا ہے جبکہ ایرانی آبدوز سمیت 17 جہازوں کو بھی تباہ کردیا گیا جن میں میزائل سسٹمز، کمانڈ سینٹرز شامل ہیں۔
سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ آج خلیج عرب، آبنائے ہرمز یا خلیجِ عمان میں ایک بھی ایرانی جہاز سمندر میں موجود نہیں ہے۔
سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران پر کیے گئے حملوں میں میزائل بیٹریز، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، ایئر ڈیفنس سسٹمز، بحری اثاثوں اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے ابتدائی 100 گھنٹوں کے دوران 17 ایرانی بحری جہازوں کو تباہ کیا جاچکا ہے، جن میں ایک آبدوز بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 28 فروری کو ایران پر ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے حملے 2003 میں عراق میں ہونے والے حملوں سے دو گنا بڑے تھے۔
ایڈمرل کوپر کے مطابق یہ حملے جاری ہیں اور ایران میں سمندر کی تہہ سے لے کر خلا اور سائبر اسپیس تک اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اب تک ایران کے فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے جبکہ سینکڑوں بیلسٹک میزائل، لانچرز اور ڈرونز تباہ کیے جا چکے ہیں۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران میں سب کچھ تباہ کردیا گیا ہے، ایران کی فضائیہ، بحریہ اور قیادت ختم کر دی ہے، ایران امریکا سے بات کرنا چاہتا ہے لیکن اب بہت دیر ہوچکی ہے، اہداف کے حصول تک ایران سے جنگ جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ جمعے سے شرقِ اوسط میں شروع ہونے والی جنگ ہنوز جاری ہے جب اسرائیل نے 28 فروری کو اچانک اعلان کیا کہ اس نے امریکہ کے تعاون سے ایران کے اندر کئی مقامات پر حملے کیے اور اس بات کی تصدیق کی کہ اس کا مقصد ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد حکومت کو معزول کرنا تھا۔
دریں اثناء ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ کئی خلیجی ممالک میں امریکی فوجی مراکز کو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنا کر جواب دیا۔