امریکا ایران جنگ بندی کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملے شدید ترین مرحلے میں داخل تھے اور صورتحال تیزی سے کشیدہ ہو رہی تھی۔ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بمباری اور فضائی حملوں پر پاکستان، ایران سمیت دنیا کے مختلف ممالک نے شدید ردعمل دیتے ہوئے فوری جنگ بندی اور حملے روکنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا تاہم اسرائیلی قیادت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم تھی صورتحال اس وقت بدلی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ عالمی اور علاقائی دباؤ، بالخصوص پاکستان اور ایران کے جنگ بندی مطالبات کے تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم کو براہِ راست فون کیا۔
امریکی میڈیا اداروں بلوم برگ اور CNN نے اس پیشرفت سے متعلق تفصیلات جاری کرتے ہوے کہا ہے کہ اس ایک تلخ فون کال جو ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے مابین ہوئی کے بعد اچانک تبدیلی دیکھی گئی اور اسرائیل جو لبنان کے معاملے پر پہلے براہ راست مذاکرات پر آمادہ نہیں تھا، اس نے جنگ بندی مذاکرات کی جانب پیش رفت شروع کر دی۔ امریکی میڈیا کے مطابق اسی کال کے بعد لبنان کے معاملے پر پالیسی میں واضح نرمی دیکھنے میں آئی اور جنگ بندی کی راہ ہموار ہونا شروع ہوئی
۔ رپورٹس کے مطابق لبنان کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ایک ’’تلخ اور سخت فون کال‘‘ ہوئی تھی۔ اس گفتگو کو دونوں جانب کے ذرائع نے غیر معمولی طور پر سخت قرار دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تلخ گفتگو کے فوراً بعد اسرائیل نے لبنان کے ساتھ براہِ راست جنگ بندی مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی صدر نے گفتگو کے دوران اسرائیلی قیادت پر زور دیا کہ لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں میں کمی لائی جائے، جبکہ بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ اور انسانی بحران کو مدنظر رکھا جائے۔
مزید انکشافات کے مطابق امریکی صدر نے اسرائیلی قیادت کو یہ بھی واضح کیا کہ اگر براہِ راست مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو واشنگٹن خود جنگ بندی کا اعلان کر سکتا ہے، جس کے بعد صورتحال نے فوری طور پر نیا رخ اختیار کیا اور خطے میں جنگ بندی کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ گئے۔