ایران کے نئے سپریم لیڈرکی شخصیت کے اہم پہلو کون سے؟سیاست کتنی جانتے؟حکومتی امور چلانے کی قابلیت کتنی؟اہم تفصیلات

ایران کے نئے سپریم لیڈرکی شخصیت کے اہم پہلو کون سے؟سیاست کتنی جانتے؟حکومتی امور چلانے کی قابلیت کتنی؟اہم تفصیلات

ایران میں حالیہ سیاسی و عسکری صورتحال کے تناظر میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے ہیں اور طویل عرصے سے ایرانی سیاسی و مذہبی حلقوں میں بااثر شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای 8 ستمبر 1969 کو ایران کے مذہبی شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں۔ اسلامی انقلاب کے بعد ان کا خاندان تہران منتقل ہوگیا جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ایران کے اہم دینی مرکز قم میں مذہبی تعلیم حاصل کی۔ قم کے حوزہ علمیہ میں انہوں نے اسلامی فقہ اور الٰہیات کی تعلیم حاصل کی اور کئی معروف شیعہ علما کے زیرِ نگرانی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ بعد ازاں انہوں نے حوزہ علمیہ قم میں اعلیٰ درجے کی فقہی تعلیم یعنی درس خارج میں تدریسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا، جو شیعہ مذہبی تعلیم کا اعلیٰ ترین مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عوام کیلئے بری خبر،خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

مجتبیٰ خامنہ ای نے نوجوانی میں ایران۔عراق جنگ کے آخری مرحلے میں حصہ لیا۔ بعد ازاں ان کے ایران کی پاسدارانِ انقلاب یعنی انقلابی گارڈ فورس اور بسیج ملیشیا کے ساتھ قریبی روابط بتائے جاتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق وہ کئی برسوں سے اپنے والد کے دفتر اور ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے اندر اثر و رسوخ رکھتے رہے ہیں اور اہم سیاسی فیصلوں میں پس پردہ کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

کچھ اطلاعات کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کے سکیورٹی اداروں اور بسیج ملیشیا میں بھی خاصا اثر و رسوخ حاصل رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 2009 کے صدارتی انتخابات کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو دبانے میں بسیج کے کردار پر اثر ڈالا تھا۔ اسی طرح بعض رپورٹس میں 2025 میں پیش آنے والے ایک بڑے اور غیر معمولی قتل عام کے حوالے سے بھی ان کا نام لیا گیا ہے۔

2005 کے ایرانی صدارتی انتخابات کے دوران بھی ان کا نام سیاسی حلقوں میں زیر بحث رہا جب ایرانی سیاست دان مہدی کروبی نے ان پر انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔ بعد ازاں 2019 میں امریکا کی وزارت خزانہ نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد سے وابستہ افراد کے ساتھ پابندیوں کی فہرست میں بھی شامل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عرب ممالک سے حملہ ہوا تو محلات کو نشانہ بنائیں گے ،ایران کا انتباہ

اگرچہ مجتبیٰ خامنہ ای نے براہ راست کوئی منتخب حکومتی عہدہ نہیں سنبھالا تاہم انہیں ایرانی اسٹیبلشمنٹ میں ایک بااثر شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق سپریم لیڈر کے دفتر، پاسداران انقلاب اور قدامت پسند مذہبی حلقوں کے ساتھ ان کے مضبوط روابط رہے ہیں۔

سیاسی نظریات اور فقہی موقف کے حوالے سے انہیں ایران کے اصول پسند یا سخت گیر سیاسی دھڑے سے تعلق رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان کے روابط ایسے مذہبی علما سے بھی قریبی ہیں جو سخت نظریاتی مؤقف کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔

خاندانی زندگی کے حوالے سے مجتبیٰ خامنہ ای نے 1997 میں زہرا حداد عادل سے شادی کی جو ایران کے سابق پارلیمنٹ اسپیکر غلام علی حداد عادل کی بیٹی ہیں۔ ان کے تین بچوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے جن میں محمد باقر، محمد امین اور فاطمہ شامل ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو طویل عرصے سے ایران کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ خصوصاً پاسداران انقلاب اور مذہبی حلقوں کے قریب سمجھا جاتا رہا ہے، اسی وجہ سے انہیں ایرانی سیاست میں ایک پس پردہ اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔

تاہم بعض ناقدین ان کی تقرری کو متنازع بھی قرار دیتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران کے سیاسی نظام میں موروثی قیادت کی روایت نہیں رہی اور اس فیصلے سے اقتدار ایک ہی خاندان میں منتقل ہونے کا تاثر پیدا ہوسکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای ایک مذہبی عالم اور بااثر شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں اور اب ان کی قیادت میں ایران کی داخلی سیاست، علاقائی پالیسیوں اور عالمی سفارتی تعلقات پر اہم اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *