جنگ بندی کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایرانی تجاویز پر حیران کن بیان سامنے آگیا

جنگ بندی کے  بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایرانی تجاویز پر حیران کن بیان سامنے آگیا

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کی پہلی دس نکاتی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے، جبکہ اب نئی دس نکاتی تجویز پر ایران اور پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیو یارک ٹائمز پرانی تجویز کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے، حالانکہ امریکا اسے پہلے ہی رد کر چکا ہے۔ ان کے مطابق کچھ ایرانی عناصر پروپیگنڈے کے لیے غلط نکات پھیلا رہے ہیں۔

ایرانی مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے بیان کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں 15 نکاتی منصوبے کا ذکر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صرف چند نکات پر اختلاف ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کئی امور پر اتفاق بھی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شہریوں نے مارچ میں 13 فیصد تیل زیادہ خریدا ،کھپت کیوں بڑھی وجہ سامنے آگئی

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور اسلام آباد میں مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے وعدہ خلافی یا سودے بازی کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

جنگ بندی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سیز فائر معاہدوں میں معمولی خلاف ورزیاں عام ہوتی ہیں اور کوئی بھی جنگ بندی مکمل طور پر بے عیب نہیں ہوتی۔

لبنان سے متعلق سوال پر جے ڈی وینس نے وضاحت کی کہ امریکا نے کبھی یہ نہیں کہا کہ لبنان بھی سیز فائر میں شامل ہوگا، اور اگر ایران اس بنیاد پر معاملات کو متاثر کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق بنیادی ہدف سیز فائر، مذاکرات اور ہرمز کو کھلا رکھنا ہے، جبکہ اب اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ امریکا ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی پر بھی بات کر سکتا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان معاملات میں پیش رفت کے لیے گنجائش موجود ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *