ایران نے جاری کشیدگی کے تناظر میں جنگ روکنے کے لیے چھ اسٹریٹجک شرائط پیش کر دی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایک سکیورٹی و سیاسی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مختلف علاقائی فریقوں اور ثالثوں کی جانب سے جنگ بندی کے حوالے سے تجاویز دی گئی ہیں، جن کے جواب میں ایران نے اپنا نیا قانونی و اسٹریٹجک فریم ورک مرتب کیا ہے۔
اہلکار کے مطابق پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ مستقبل میں جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی واضح اور قابلِ عمل ضمانت دی جائے۔ دوسری شرط خطے میں موجود امریکا کے فوجی اڈوں کی بندش سے متعلق ہے۔ تیسری شرط کے تحت مبینہ جارح کو پیچھے دھکیلنے اور ایران کو جنگی نقصانات کا ازالہ (ہرجانہ) ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
چوتھی شرط میں تمام علاقائی محاذوں پر لڑائی مکمل طور پر ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ پانچویں شرط کے تحت آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے قانونی نظام (لیگل رجیم) کے نفاذ کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ چھٹی شرط میں ایران مخالف میڈیا آپریٹیوز کے خلاف قانونی کارروائی اور انہیں ملک بدر کرنے کا تقاضا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کی بڑی کامیابی ، امریکا کا پہلی بار بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ کو شدید نقصان پہنچنے کا اعتراف
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے دعوؤں کے برعکس امریکا سے کسی قسم کی براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔ ایرانی مؤقف کے مطابق اگر کوئی پیش رفت ہوگی تو وہ علاقائی ثالثوں کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔
رپورٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ شرائط کن ثالثوں کے ذریعے امریکا یا اسرائیل تک پہنچائی گئی ہیں۔ تاہم ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے ان شرائط کو سنجیدگی سے لینے پر زور دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ایران پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت “اسٹریٹجک تحمل” کے ساتھ مرحلہ وار اقدامات کر رہا ہے۔
ایرانی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور ایران کو فضائی برتری حاصل ہے۔ اسی تناظر میں حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں فوری جنگ بندی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں، تاہم سفارتی کوششوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے۔