چینی نژاد کینیڈین مبصر پروفیسر یینگ جیانگ نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔
انہوں نے اس ممکنہ جنگ کا موازنہ یوکرین جنگ سے کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح یوکرین میں جنگ طول پکڑ چکی ہے، اسی طرح ایران سے متعلق صورتحال بھی ایک لمبے اور پیچیدہ تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
امریکا اپنے فوجی اہداف کے قریب پہنچ گیا، جنگ جلد ختم ہو جائے گی، ٹرمپ کا ایک بار پھر بڑا دعویٰ
امریکی صحافی و میزبان ٹکر کارلسن کو دیے گئے انٹرویو میں پروفیسر یینگ جیانگ نے کہا کہ اس تنازع میں شامل فریقین میں سے کوئی بھی آسانی سے پسپائی اختیار نہیں کرے گا، جس کے باعث جنگ کے طویل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس جنگ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت پر اس کے انتہائی ڈرامائی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل اور تجارتی سرگرمیوں میں کمی کے باعث دنیا کو ایک نئے معاشی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔
پروفیسر یینگ جیانگ نے مزید کہا کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو کئی ممالک میں خوراک کی قلت پیدا ہو سکتی ہے اور فوڈ راشننگ جیسے اقدامات بھی کرنا پڑ سکتے ہیں، جو عالمی سطح پر ایک سنگین انسانی و معاشی بحران کی نشاندہی ہے۔
انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اس تنازع میں شامل ہو سکتے ہیں، جس سے یہ جنگ ایک وسیع علاقائی یا حتیٰ کہ بین الاقوامی سطح کا بحران اختیار کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوتی ہیں تو نہ صرف عالمی امن بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیاں اور غذائی تحفظ بھی شدید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

