مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور سفارتی کامیابی کے بعد ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم ہونے لگا ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اہم خطاب کے دوران اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو سراہتے ہوئے ملکی مفاد میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے، اس پر خوشی کا اظہار نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ ان کے خطاب کے اہم نکات یہ تھے:
انہوں نے اعلان کیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن اس وقت وہ حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر ممکن تعاون کریں گے۔ محمود خان اچکزئی نے ایوان میں “پاکستان زندہ باد” اور “پاک فوج زندہ باد” کے نعرے لگائے، جس پر ایوان ڈیسک بجا کر گونج اٹھا۔
انہوں نے تمام سیاسی قیادت کو ایک میز پر بیٹھنے کی دعوت دی اور زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی سمیت تمام مقبول رہنماؤں سے بات چیت کی جائے تاکہ ملک کو سیاسی استحکام ملے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسائل سے مالا مال ہے اور اسے شخصی انا کے بجائے قومی مفادات کو ترجیح دے کر خود انحصاری کی طرف بڑھنا چاہیے۔
دوسری جانب سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صدر ایمل ولی خان نے موجودہ پیش رفت کو پاکستان کے لیے تاریخی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا “وزیراعظم اور فیلڈ مارشل مبارکباد کے مستحق ہیں”۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کروانے پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مبارکباد پیش کی۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ پاکستان نے دنیا کو ثابت کر دیا ہے کہ بڑے سے بڑے مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کے اس عالمی کردار پر فخر محسوس کر رہی ہے اور پاکستان کا امن اور بھائی چارے کا پیغام دنیا بھر میں پہنچ رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اپوزیشن کی جانب سے حکومت اور عسکری قیادت کی اس سطح پر حمایت حالیہ برسوں میں پہلی بار دیکھی گئی ہے۔ محمود خان اچکزئی کا “پاک فوج زندہ باد” کا نعرہ لگانا اور بانی پی ٹی آئی سے مذاکرات کی تجویز دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک میں ایک بڑے “قومی میثاق” کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا امن مذاکرات میں شریک ہوگا، جے ڈی وینس، وٹکوف اور کشنر اسلام آباد جائیں گے، وائٹ ہاؤس

