روس کا ایران کو خفیہ انٹیلی جنس تعاون: امریکی فوجی اثاثوں کی لوکیشن فراہم کرنے کا انکشاف

روس کا ایران کو خفیہ انٹیلی جنس تعاون: امریکی فوجی اثاثوں کی لوکیشن فراہم کرنے کا انکشاف

امریکی میڈیا، بالخصوص واشنگٹن پوسٹ اور سی بی ایس نیوز نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران کو براہِ راست ہدف بنانے کے لیے “رئیل ٹائم” (فوری) انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، روس نے اپنے جدید سیٹلائٹ نظام کے ذریعے امریکی جنگی بحری جہازوں، طیارہ بردار جہازوں اور دیگر عسکری اثاثوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات ایران کے ساتھ شیئر کی ہیں، جس نے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی درستی کو غیر معمولی طور پر بڑھا دیا ہے۔

دفاعی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی ریڈار سسٹمز، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور فوجی تنصیبات پر کیے گئے حالیہ “پریسائز ہٹس” (انتہائی درست نشانے) اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسے کسی بیرونی طاقت، یعنی روس، کی مدد حاصل ہے۔

چونکہ ایران کی اپنی سیٹلائٹ صلاحیتیں محدود ہیں، اس لیے روس کے جدید ترین جاسوسی سیٹلائٹس کی تصاویر اور ڈیٹا ایران کے لیے امریکی “ارلی وارننگ ریڈارز” کو نشانہ بنانے میں کلیدی ثابت ہو رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تعاون کی بدولت ایران نے کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے کیے جن میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، اور ریاض میں سی آئی اے کے ایک اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اس معاملے پر پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ “چاہے یہ معلومات شیئر کی گئی ہوں یا نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ امریکی افواج ایرانی حکومت کی عسکری صلاحیتوں کو تیزی سے تباہ کر رہی ہیں۔”

مزید جانیئے: پاک افغان سرحدی کشیدگی: روس کا اظہار تشویش، مذاکراتی حل پر زور

اگر روس کا یہ تعاون ثابت ہو جاتا ہے، تو یہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں ایک ہولناک موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف بالواسطہ (Proxy) جنگ میں ملوث نظر آ رہی ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *