‘ایران کو کمزور سمجھنا تاریخی غلطی’، ڈونلڈ ٹرمپ کاحیران کن اعتراف

‘ایران کو کمزور سمجھنا تاریخی غلطی’، ڈونلڈ ٹرمپ کاحیران کن اعتراف

واشنگٹن میں منعقدہ حالیہ کابینہ اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے  اعتراف کیا ہے کہ ایران کو کمزور سمجھنا تاریخی غلطی ثابت ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ اجلاس کے دوران اعتراف کیا ہے کہ ایران کو کمزور سمجھنا امریہ کی تاریخی غلطی ہے انہوں نے جہاں ایران کی فوجی طاقت کو تقریباً مفلوج کرنے کا دعویٰ کیا، وہاں ایرانی قیادت کی سفارتی اور مذاکراتی صلاحیتوں کی کھل کر تعریف کر کے عالمی مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کو پہنچنے والے نقصانات کی ایک تشویشناک تصویر پیش کی ہے۔ صدر کا دعویٰ ہے کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایرانی بحریہ اور فضائیہ کو تقریباً مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

امریکی صدر کے مطابق، ایران کے 90 فیصد میزائل لانچرز اور ان کے ذخیرے کا ایک بڑا حصہ تباہ کیا جا چکا ہے۔ ٹرمپ نے زور دیا کہ ان حملوں کے بعد تہران اس وقت شدید ترین دفاعی اور معاشی دباؤ میں ہے، جس کی وجہ سے وہ اب کسی بھی قسم کے معاہدے کے لیے مجبور ہو چکا ہے۔

اپنی روایتی سخت گیر پالیسی کے باوجود، صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت کے بارے میں چند ایسے جملے کہے جو عموماً دشمن ممالک کے لیے استعمال نہیں کیے جاتے۔ “ایران کو کمزور سمجھنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔ ان کی قیادت نہ صرف انتہائی ہوشیار ہے بلکہ وہ غیر معمولی مذاکراتی مہارت بھی رکھتی ہے۔”

دوسری جانب ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اعتراف دراصل مستقبل میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک تمہید ہے۔ ایرانیوں کو “سخت جان مذاکرات کار” قرار دے کر وہ امریکی عوام کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ تہران کے ساتھ کوئی بھی ڈیل کرنا ایک بڑا اور مشکل چیلنج ہوگا۔

مزید پڑھیں: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کررہا ہے، امریکی کابینہ اجلاس میں باضابطہ تصدیق

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *