حکومت نے صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے نرخوں میں بڑی اصلاحات لانے کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت ایک نیا اور جدید ٹیرف نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف صنعتی صارفین کو سہولت فراہم کرنا ہے بلکہ بجلی کے مؤثر استعمال، لاگت میں کمی اور توانائی کے شعبے میں استحکام لانا بھی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت توانائی پاور ڈویژن صنعتی صارفین کے لیے اختیاری ’ملٹی ٹیرف ٹائم آف یوز‘ نظام متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ اس حوالے سے متعدد تکنیکی اور مشاورتی اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں، جبکہ اس پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید مشاورت جاری ہے۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری کی خصوصی ہدایت پر زیر غور ہے، جو توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ان کی ہدایت پر حکام صنعتی صارفین، ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو بھی شامل کر رہے ہیں تاکہ ایک متوازن اور قابلِ عمل نظام تیار کیا جا سکے۔
مجوزہ فریم ورک کے تحت صنعتی صارفین کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ ملٹی سلیب ٹیرف ڈھانچے میں شامل ہوں یا روایتی نظام پر قائم رہیں۔ اس نئے نظام میں بجلی کی قیمتوں کا تعین مختلف اوقات کے حساب سے کیا جائے گا، یعنی کم طلب کے اوقات میں بجلی سستی جبکہ زیادہ طلب کے اوقات میں مہنگی ہو گی، تاکہ اصل لاگت کی بہتر عکاسی ہو سکے۔
اس نظام کے 2 بنیادی حصے ہوں گے۔ پہلا حصہ فکسڈ چارجز پر مشتمل ہوگا، جو صارف کی زیادہ سے زیادہ بجلی کی طلب کے مطابق طے کیے جائیں گے، جبکہ دوسرا حصہ ویری ایبل انرجی چارجز پر مشتمل ہوگا، جو بجلی کی حقیقی پیداواری لاگت کے مطابق مقرر کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے صنعتی صارفین کو کم لاگت والے اوقات میں بجلی استعمال کرنے کی ترغیب ملے گی، جس سے نہ صرف ان کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ بجلی کے نظام پر دباؤ بھی کم ہوگا۔ اس کے نتیجے میں لوڈ مینجمنٹ بہتر ہوگی اور مہنگے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی ضرورت میں بھی کمی آئے گی۔
واضح رہے کہ یہ نظام صنعتی پیداوار میں اضافہ، برآمدات میں بہتری اور عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کے اخراجات میں استحکام آنے سے کاروباری ماحول بھی بہتر ہوگا۔
وفاقی وزیر نے ہدایت کی ہے کہ اس مجوزہ نظام کو حتمی شکل دینے سے قبل تمام متعلقہ فریقین، بشمول چیمبرز آف کامرس، صنعتی تنظیموں اور بڑے صارفین سے تفصیلی مشاورت کی جائے۔ اس سلسلے میں پہلا آن لائن مشاورتی اجلاس 26 مارچ کو منعقد کیا جائے گا، جس میں مختلف تجاویز اور خدشات کا جائزہ لیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اگر یہ نظام کامیابی سے نافذ ہو گیا تو مستقبل میں اسے دیگر شعبوں تک بھی توسیع دی جا سکتی ہے، جس سے مجموعی طور پر توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل تیز ہو جائے گا۔