دنیا بھر میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی اور اس کے ممکنہ اثرات پر خبروں اور سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔
کئی غیر مصدقہ دعوے سامنے آ رہے ہیں کہ خطے میں جاری تنازعات کے اثرات صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ اور دیگر مغربی ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں، اور اگر حالات خراب ہوئے تو عالمی معیشت اور سماجی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
اسی دوران بابا وانگا سے منسوب پیشگوئیاں دوبارہ خبروں کا حصہ بنی ہیں، بعض صارفین کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے برسوں قبل مشرق وسطیٰ میں بڑے تنازع اور اس کے بعد غیر متوقع جنگ بندی کی پیشگوئی کی تھی۔
موجودہ حالات کے پیش نظر کچھ لوگ ان دعوؤں کو مستقبل کی جھلک قرار دے رہے ہیں اور انہیں حالیہ کشیدگی کے ساتھ جوڑ رہے ہیں ان دعوؤں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عالمی تنازعات کے بعد روس ایک بڑی طاقت کے طور پر مزید مضبوط ہو سکتا ہے اور دنیا میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے،تاہم، یہ تمام معلومات ابھی تک کسی مستند ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں ہیں۔
بابا وانگا کی پیشگوئیوں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے خاص طور پر جب عالمی حالات غیر یقینی ہوں، لوگ ایسی خبروں اور دعووں کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں، جس سے غلط فہمی اور افواہوں میں اضافہ ہوتا ہے۔