پشین میں سہیل آفریدی کا اشتعال انگیز بیانیہ عوام کو ریاست مخالف کارروائیوں پر اکسانے کی کوشش

پشین میں سہیل آفریدی کا اشتعال انگیز بیانیہ عوام کو ریاست مخالف کارروائیوں پر اکسانے کی کوشش

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبہ بلوچستان کے ضلع پشین کا دورہ کیا، جہاں جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے ایک بار پھر حقائق کو مسخ کرتے ہوئے عوام کو ریاست مخالف بیانیے کی جانب اکسانے کی کوشش کی۔ ان کی تقریر نہ صرف غیر ذمہ دارانہ تھی بلکہ اس میں زمینی حقائق سے چشم پوشی بھی واضح نظر آئی۔

یاد رہے کہ 20 مارچ کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اہلِ تشیع علمائے کرام کے ساتھ ہونے والی ملاقات نہایت مثبت اور تعمیری رہی تاہم اس مثبت پیش رفت کو جان بوجھ کر سہیل آفریدی جیسے عناصر کی جانب سے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے جوکہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید برآں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے۔ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں صرف خوارج اور ان کے سہولت کاروں کے ٹھکانوں کے خلاف ہوتی ہیں، جو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ایسی کارروائیوں پر سہیل آفریدی کو تکلیف کیوں ہو رہی ہے؟ خیبرپختونخوا میں انہی خوارج کے ہاتھوں سینکڑوں بے گناہ افراد شہید ہو چکے ہیں، مگر وزیراعلیٰ کی جانب سے ان پر مؤثر اور واضح مؤقف سامنے نہیں آتا۔ لیکن جب ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اچانک افغانستان کے لیے ہمدردی کا اظہار شروع ہو جاتا ہے، جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہمارا فرض ہے ، وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی

سہیل آفریدی کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اور حساس قومی معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا دراصل دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے، جس سے ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ وہی عناصر ہیں جنہوں نے 9 مئی جیسے افسوسناک واقعات میں ملک کو نقصان پہنچایا، اور آج سہیل آفریدی جیسے افراد انہی واقعات کے بیانیے کو مختلف انداز میں دہرا کر ایک بار پھر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قومی اداروں کے خلاف نفرت کو ہوا دینا اور انتشار پھیلانا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *