راولپنڈی کے علاقے اڈیالہ روڈ پر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں اور متعدد مرکزی رہنماؤں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
تھانہ صدر بیرونی میں چوکی انچارج اڈیالہ عمران خان کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر میں سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی سمیت ایم این اے شاہد خٹک، ایم پی اے مینا خان، ایم این اے شفقت اعوان، ترجمان خیبرپختونخوا شفیع اللہ جان اور سمابیہ طاہر ستی کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں 1400 نامعلوم ملزمان کا بھی ذکر ہے جن پر ہنگامہ آرائی، اقدامِ قتل، پولیس سے مزاحمت اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان کے پتھراؤ سے 9 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ متعدد سرکاری اور نجی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ پولیس نے موقع سے 41 ملزمان کو حراست میں لیا تھا جو بعد ازاں مبینہ طور پر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس نے فرار ہونے والے ملزمان کی 13 گاڑیاں قبضے میں لے لی ہیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان سے پٹرول، کانچ کی بوتلیں، روئی اور ماچس جیسے اشیاء برآمد ہوئی ہیں جو انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کی جانی تھیں۔
پولیس کا موقف ہے کہ ملزمان نے سیاسی مقاصد کے لیے پنجاب حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی۔ اپریل 2026 کی اس کشیدہ صورتحال نے جڑواں شہروں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں کا احتجاج اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے معاملے پر پولیس کے ساتھ جھڑپیں ایک مستقل صورتحال بن چکی ہیں۔ حالیہ دنوں میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر جیل کے باہر دفعہ 144 نافذ رہی ہے، جس کی خلاف ورزی پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی نامزدگی کو سیاسی حلقوں میں دباؤ بڑھانے کے حربے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ قانونی کارروائی صرف قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کی جا رہی ہے۔