نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے صارفین کے لیے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے نئے نرخوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے ۔
پرانے اور نئے سولر صارفین کے لیے علیحدہ علیحدہ قیمتیں مقرر کی گئی ہیں،نیپرا کے اس فیصلے کو ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے سولر نیٹ میٹرنگ نظام کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نیپرا کی جانب سے جاری کردہ نئے قواعد کے مطابق وہ صارفین جو پہلے ہی سولر نیٹ میٹرنگ سسٹم کے تحت رجسٹرڈ ہیں، انہیں ریلیف دیا گیا ہے،موجودہ سولر صارفین بدستور اپنی پیدا کردہ اضافی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کرتے رہیں گے جو کہ پہلے سے طے شدہ شرح ہے اس فیصلے سے پرانے صارفین کے مالی مفادات کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
تاہم نیپرا کے نئے فیصلے کے تحت اب نئے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے صورتحال خاصی مختلف ہو گئی ہے، نئی پالیسی کے مطابق نیشنل گرڈ نئے سولر صارفین سے بجلی صرف 8 روپے 13 پیسے فی یونٹ کے حساب سے خریدے گا۔
اس طرح بجلی کی خریداری کی شرح میں 17 روپے 19 پیسے فی یونٹ کی نمایاں کمی کر دی گئی ہے، جسے ماہرین سولر سرمایہ کاری کے رجحان پر اثرانداز ہونے والا فیصلہ قرار دے رہے ہیں اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں سولر نیٹ میٹرنگ استعمال کرنے والے صارفین کی مجموعی تعداد تقریباً 4 لاکھ 66 ہزار ہے، جن میں سے 82 فیصد کا تعلق بڑے شہروں سے ہے۔
شہروں کے اعتبار سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ سولر صارفین لاہور میں ہیں، جہاں ان کا تناسب 24 فیصد ہے۔ اس کے بعد ملتان 11 فیصد، راولپنڈی 9 فیصد، کراچی 7 فیصد اور فیصل آباد 6 فیصد کے ساتھ نمایاں شہروں میں شامل ہیں۔
پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے مطابق پاکستان میں اس وقت نیٹ میٹرنگ کے تحت نصب شمسی توانائی کی مجموعی صلاحیت تقریباً 7 ہزار میگا واٹ ہے، جبکہ آف گرڈ سولر صارفین اضافی 13 ہزار سے 14 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔