اسرائیل نے ایران کے ساتھ 2 ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے معاہدہ ہوتے ہی اپنی تمام تر فوجی طاقت کا رخ لبنان کی طرف موڑ دیا ہے، جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قیامت خیز بمباری کی گئی ہے۔
لبنان کی وزارتِ صحت اور سول ڈیفنس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے محض 10 منٹ کے اندر 60 مختلف مقامات پر 100 سے زیادہ حملے کیے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 254 افراد شہید اور 1165 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں معروف مذہبی شخصیت امام صادق النبولسی بھی شہید ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری، مزید 25 افراد شہید، مجموعی تعداد 773 ہوگئی
اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت بیروت سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 92 شہادتیں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ جنوبی مضافاتی علاقوں میں 61، بعلبک میں 18، ہرمیل میں 9، نبیطہ میں 28، سدون میں 12 اور طیر میں 17 افراد جاں بحق ہوئے۔
لبنانی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کی وجہ سے اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا، جبکہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز اور عسکری تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اسرائیلی اقدامات کو سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ سازش قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے تہران میں مذاکرات کے حوالے سے شدید شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت کا احترام کرتے ہوئے ایرانی وفد اپنے 10 نکاتی ایجنڈے پر سنجیدہ بات چیت کے لیے آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔
یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس پہلے ہی اپنی مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان کر چکا ہے، جس کے باعث اسلام آباد 9 اپریل 2026 کو عالمی سفارت کاری کا مرکز بن چکا ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع اکتوبر 2023 سے جاری ہے، لیکن حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی نے اسرائیل کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنی تمام فضائی قوت حزب اللہ کو کمزور کرنے پر صرف کرے۔
تہران اس صورتحال کو ایک ’سفارتی جال‘ کے طور پر دیکھ رہا ہے جہاں اسے ایک طرف مذاکرات کی میز پر رکھا گیا ہے اور دوسری طرف اس کے اہم اتحادی (حزب اللہ) کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اس لیے بھی پیچیدہ ہو گئے ہیں کیونکہ ایران اب لبنان میں بھی مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔