بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور ایک بار پھر شدید بدامنی کی لپیٹ میں آ گئی ہے جہاں تازہ جھڑپوں میں کم از کم 17 افراد ہلاک جبکہ 87 زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں میں بھارتی فوج کے اہلکاروں اور مقامی رہائشیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
حالیہ تشدد کا آغاز لیٹن گاؤں میں تانگکھل ناگا اور کوکی برادریوں کے درمیان دوبارہ سر اٹھانے والی کشیدگی سے ہوا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے گاؤں پر دھاوا بول دیا اور 30 سے 50 گھروں کو آگ لگا دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے شعلوں نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے باعث درجنوں خاندان جان بچانے کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔
بھارت منی پور میں حالات کشیدہ۔۔۔۔
منی پور میں بھارتی فوج اور مقامی لوگوں کے درمیان جھڑپیں۔۔۔۔
17 افراد ہلاک جبکہ 87 دیگر زخمی ہو گئے۔ pic.twitter.com/V4LPMlNrXw
متاثرین کے مطابق حملے اچانک اور منظم انداز میں کیے گئے۔ کئی افراد نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز کی موجودگی کے باوجود مسلح گروہ کارروائیاں کرتے رہے۔ بعض رہائشیوں نے حالات کو ‘جنگ جیسے’ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ سڑکیں سنسان ہیں، بازار بند ہیں اور ہر طرف فوجی گشت جاری ہے۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر حکام نے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا جبکہ افواہوں اور اشتعال انگیزی کو روکنے کے لیے پانچ روز کے لیے انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔ تاہم پابندیوں کے باوجود وقفے وقفے سے فائرنگ اور جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
حساس علاقوں میں اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں اور ریاستی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالات کو قابو میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مخالفین حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی کو بروقت روکنے میں ناکامی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرگرم مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور دیرپا امن قائم کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی۔ کمیونٹی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔
ایک مقامی سول سوسائٹی نمائندے نے کہا کہ ’یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے’ اور زور دیا کہ حکومت ذمہ داران کا احتساب کرے اور طویل مدتی سکیورٹی اقدامات متعارف کرائے تاکہ ریاست میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
واضح رہے کہ منی پور میں نسلی بنیادوں پر بدامنی کئی ماہ سے جاری ہے جس نے ریاستی اور وفاقی حکومتوں کی صلاحیت کو مسلسل آزمائش میں ڈال رکھا ہے۔ اگرچہ حکام بارہا امن کی بحالی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں اور خوف و ہراس کی فضا بدستور قائم ہے۔
حکام نقصانات کا تخمینہ لگانے اور متاثرین کی بحالی کے لیے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ مزید کشیدگی اور جانی نقصان کو روکا جا سکے۔ صورتحال تاحال غیر یقینی ہے اور آنے والے دن ریاست کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔