خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہ کاریاں، 45 افراد جاں بحق، 105 زخمی، پی ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری

خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہ کاریاں، 45 افراد جاں بحق، 105 زخمی، پی ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری

خیبرپختونخوا میں گزشتہ چند روز سے جاری موسلا دھار بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔

پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 25 مارچ سے اب تک ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں صوبہ بھر میں 45 افراد جاں بحق جبکہ 105 زخمی ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 30 اموات، 140گھر تباہ، پی ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جہاں 23 معصوم بچے لقمہ اجل بنے، جبکہ دیگر جاں بحق افراد میں 17 مرد اور 5 خواتین شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے 105 افراد کو صوبے کے مختلف اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

بارشوں کے باعث انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 442 گھر متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے 382 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ 60 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے ہیں، جس کے باعث کئی خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق 6 سے 9 اپریل تک صوبے میں بارشوں کا ایک نیا سلسلہ داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے لیے پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں مون سون کی تباہ کاریاں جاری، مزید بارشوں کا امکان، 670 افراد جاں بحق ہوئے، حکومت اور فوج کی مشترکہ پریس کانفرنس

شہریوں سے اپریل 2026 کے اس نئے موسمی اسپیل کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور بوسیدہ عمارتوں سے دور رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔

خیبرپختونخوا میں موسمِ بہار کے دوران مغربی ہواؤں کے سلسلے اکثر شدید بارشوں اور ژالہ باری کا باعث بنتے ہیں۔ رواں سال مارچ کے اواخر سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ غیر معمولی شدت اختیار کر گیا ہے، جس نے ناصرف انسانی جانوں کو نقصان پہنچایا بلکہ کھڑی فصلوں اور کچے مکانات کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے قبل از وقت وارننگ اور نئے سلسلے کے لیے الرٹ جاری کرنا مزید جانی نقصان سے بچنے کی ایک کوشش ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *