جنگ بندی، تہران کی سڑکوں پر جشن، مگر خدشات بھی، مظاہرین نے امریکا، اسرائیل کو ناقابل اعتبار قرار دیدیا

جنگ بندی، تہران کی سڑکوں پر جشن، مگر خدشات بھی، مظاہرین نے امریکا، اسرائیل کو ناقابل اعتبار قرار دیدیا

امریکا اور ایران کے درمیان اچانک جنگ بندی کے اعلان نے تہران کی سڑکوں پر ایک غیر معمولی اور پیچیدہ صورتحال پیدا کر دی ہے۔

بدھ کی صبح جیسے ہی ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے جنگ بندی اور امریکا کی مبینہ پسپائی کا اعلان کیا گیا، شہریوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ جہاں ایک طرف حکومت کے حامی مظاہرین اسے ایک بڑی ’ اسٹرٹیجک فتح‘ قرار دے کر نعرے لگا رہے تھے، وہیں دوسری جانب شہریوں کا ایک بڑا طبقہ اس معاہدے کو شدید شک و شبہات کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دشمن کو عبرتناک شکست کا سامنا، امریکا ہمارا 10 نکاتی منصوبہ قبول کرنے پر مجبور ہوگیا، ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل

تہران کے مختلف چوکوں پر مظاہرین کے گروہوں نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان کے پرچم نذرِ آتش کیے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس جنگ بندی کو تسلیم کیا ہے تو وہ اس فیصلے پر راضی ہیں، کیونکہ انہیں اپنے لیڈر کی بصیرت پر مکمل اعتماد ہے۔

تاہم، بہت سے شہریوں نے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کبھی بھی قابلِ اعتبار نہیں رہا اور خدشہ ظاہر کیا کہ یہ جنگ بندی صرف اسرائیل کو دوبارہ منظم ہونے کے لیے وقت فراہم کرنے کی ایک سوچی سمجھی چال ہو سکتی ہے۔

شہریوں کے اس ہجوم میں حیرت اور تذبذب کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔ تہران کی ایک خاتون نے سڑک کنارے لگے اس بڑے اشتہاری بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جس پر آبنائے ہرمز کو ہر صورت بند رکھنے کا عزم درج تھا۔

سوال کیا کہ ’اگر اسے بند رہنا تھا تو اب کیوں کھولا جا رہا ہے؟‘ یہ سوال ان بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں ہے جو گزشتہ کئی دنوں سے ایک بڑی جنگ کی خبریں سن رہے تھے۔ اگرچہ سرکاری سطح پر اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، لیکن عوامی حلقوں میں یہ خدشہ اب بھی برقرار ہے کہ یہ سکون عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ 8 اپریل 2026 کی یہ صبح تہران کے لیے ناصرف سکون بلکہ گہرے سوالات بھی ساتھ لائی ہے۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا جنگ بندی پر امریکا، ایران سے اظہار تشکر، اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت دیدی

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی آبنائے ہرمز کی بندش اور میزائل حملوں کے بعد انتہا پر پہنچ گئی تھی، جہاں دنیا ایک بڑی جنگ کی توقع کر رہی تھی۔ پاکستان اور دیگر ثالثوں کی کوششوں سے ہونے والا یہ اچانک معاہدہ، جسے ‘اسلام آباد معاہدہ’ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تہران کے لیے ایک بڑا موڑ ہے۔

ایرانی قیادت کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنے اس سخت گیر طبقے کو مطمئن کرنا ہے جو کسی بھی قیمت پر امریکا کے ساتھ سمجھوتے کو ’کمزوری‘ تصور کرتا ہے، جبکہ عام شہری معاشی پابندیوں سے نجات اور امن کے خواہش مند ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *