امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات ’معاہدے‘میں رکاوٹ بن گئے، ایرانی سرکاری میڈیا کا بڑا دعویٰ

امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات ’معاہدے‘میں رکاوٹ بن گئے، ایرانی سرکاری میڈیا کا بڑا دعویٰ

پاکستان کی ثالثی اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکا کے ’حد سے زیادہ اور غیر قانونی‘ مطالبات کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے رویے نے مشترکہ فریم ورک کی تشکیل میں رکاوٹ ڈالی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی میزبانی اور مثبت کردار کے شکر گزار ہیں‘، ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کا پیغام

ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال، جوہری حقوق، جنگی ہرجانہ اور پابندیوں کے خاتمے جیسے حساس مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی، لیکن اکثر اہم نکات پر فریقین کے درمیان شدید اختلاف پایا گیا۔

تہران کا موقف ہے کہ جب تک امریکا ایران کے جائز حقوق کو تسلیم نہیں کرتا اور اپنی ’ زیادہ سے زیادہ مطالبات ‘ کی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹتا، کسی بھی پائیدار معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ وہ خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے اور پابندیوں کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں، تاہم اس کا انحصار دوسرے فریق کی نیک نیتی پر ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں موجود سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونا ایک بڑا دھچکا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

12 اپریل 2026 کو ختم ہونے والے ان مذاکرات کے بعد اب سب کی نظریں واشنگٹن کے ردعمل پر لگی ہیں کہ آیا سفارت کاری کا دروازہ کھلا رہے گا یا دوبارہ فوجی اقدامات کی بازگشت سنائی دے گی۔

مزید پڑھیں:ہم ایران کو شکست دے چکے ہیں، مذاکرات کے نتائج اب معنی نہیں رکھتے، ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

اسلام آباد مذاکرات سے عالمی سطح پر جو امیدیں وابستہ تھیں، وہ تاحال پوری نہیں ہو سکیں۔ ایران کے لیے ’جنگی ہرجانہ‘ اور ’جوہری حقوق‘ سرخ لکیر کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ امریکا ایران کو مکمل طور پر غیر مسلح اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو ختم دیکھنا چاہتا ہے۔

ان 2 متضاد بیانیوں کے درمیان پاکستان کی سہولت کاری نے اگرچہ فریقین کو میز پر بٹھا دیا، لیکن ‘فریم ورک’ کی عدم موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان ابھی بہت گہرا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *