امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے تھے مگر ان کی مداخلت سے تباہی ٹل گئی، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ امریکی صدر کی کوششوں سے 35 ملین افراد کی جانیں بچیں۔
منگل کو صدر ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں انہوں نے 8 خطرناک جنگیں رکوائیں، ان کے بقول پاکستان اور بھارت کے درمیان نیوکلیئر تصادم کو روکنا ان کی بڑی سفارتی کامیابی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کروانے میں بھی امریکا نے کلیدی کردار ادا کیا جبکہ کانگو اور روانڈا، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان تنازعات میں بھی ان کی سفارتکاری مؤثر رہی ہے۔
ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا، ان کا کہنا تھا کہ ایران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو جلد امریکا تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو تباہ کیا اور اپنی پہلی مدتِ صدارت میں جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور ایک نئی ڈیل کی کوشش جاری ہے۔
خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے 2000 افراد کو پھانسی سے بچایا اور مزید سزاؤں کو رکوایا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹیرف پالیسی کے ذریعے بھی کئی عالمی تنازعات ختم کروائے گئے اور تمام ممالک ٹیرف کے باوجود امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر تنقید کی جس میں ٹیرف سے متعلق حکمنامہ جاری کیا گیا تھا۔
روس اور یوکرین جنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں اور جلد پیش رفت متوقع ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی کارروائیوں میں 600 فلسطینی شہید ہوئے۔
امیگریشن کے معاملے پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے دور میں امریکی سرحدیں تاریخ کی محفوظ ترین سرحدیں بن چکی ہیں اور گزشتہ 9 ماہ میں ایک بھی غیرقانونی شخص امریکا میں داخل نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ غیرقانونی امیگرینٹس کو ملک سے نکالا جا رہا ہے اور یہ پالیسی جاری رہے گی۔ انہوں نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک دہشتگرد نے وائٹ ہاؤس کے باہر ایک خاتون اہلکار کو گولی ماری اور ایسے عناصر کو امریکا میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔
معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دوسرے دورِ صدارت میں افراطِ زر میں غیرمعمولی کمی آئی، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی اور صرف بارہ ماہ میں 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا آج پہلے سے زیادہ مضبوط اور خوشحال ہے اور بائیڈن دور میں ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ری پبلکن پارٹی نے ٹیکس کٹوتی ممکن بنائی جبکہ ہر ڈیموکریٹ نے مخالفت میں ووٹ دیا کیونکہ وہ ٹیکس بڑھانا چاہتے تھے۔ خطاب کے دوران ڈیموکریٹ رکن کانگریس الگرین نے احتجاج کیا اور بینر لہرانے کی کوشش کی جس پر انہیں ایوان سے باہر نکال دیا گیا، اس موقع پر صدر ٹرمپ نے احتجاج کرنے والوں کو پاگل قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ نیٹو بجٹ میں اب یورپی ممالک 5 فیصد تک اخراجات کر رہے ہیں اور امریکا نے ڈرگ کارٹیلز کے خلاف حالیہ کارروائیوں میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وینزویلا کی نئی قیادت کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔
خطاب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایک سال میں غیرمعمولی تبدیلی سے گزرا ہے اور ملک اب دنیا کا سب سے پسندیدہ اور کامیاب ترین ملک بن چکا ہے، ان کے بقول امریکا اتنی تیزی سے کامیاب ہو رہا ہے کہ مزید کامیابیاں سمیٹنا مشکل ہو رہا ہے۔