ایران نے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے حالیہ حملوں کے تناظر میں گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت مکمل طور پر محفوظ ہے۔ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق سپریم لیڈر، صدر اور آرمی چیف کسی بھی حملے میں نقصان سے محفوظ رہے ہیں اور ریاستی امور بدستور معمول کے مطابق جاری ہیں۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای محفوظ مقام پر موجود ہیں اور قومی سلامتی سے متعلق امور کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اسی طرح ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی محفوظ ہیں اور حکومتی معاملات کی سربراہی کر رہے ہیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی بھی خیریت سے ہیں اور آپریشنل ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ ایرانی وزارت دفاع کے مطابق مسلح افواج مکمل الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ریاض پر ایرانی حملوں کے جواب کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کا ردعمل
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ قیادت کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں “افواہیں اور نفسیاتی جنگ” کا حصہ ہیں جن کا مقصد داخلی سطح پر اضطراب پیدا کرنا ہے۔ بیان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات کو ترجیح دیں۔
مبصرین کے مطابق موجودہ کشیدہ حالات میں اطلاعاتی جنگ بھی عروج پر ہے، تاہم ایران کی جانب سے اعلیٰ قیادت کے محفوظ ہونے کی تصدیق نے ان افواہوں کو مسترد کر دیا ہے جو حالیہ حملوں کے بعد سامنے آئی تھیں۔ خطے کی صورتحال بدستور حساس ہے اور عالمی برادری اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

