اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب نے پاکستان، چین اور روس کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اصولی موقف اختیار کیا، ایرانی مندوب نے ان ممالک کی حمایت کو انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ حملے غیر قانونی اور بلاجواز ہیں۔
ایرانی حکام نے خاص طور پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا کیونکہ پاکستان واحد مسلم ملک ہے جس نے اسرائیل اور امریکا کی ایران پر جارحانہ کارروائی کی کھل کر مذمت کی اور مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ ایران کے سرکاری ٹی ویکے مطابق اس حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
چین کی پیشگی وارننگ اور سفری ہدایات
ادھر چین نے ایران اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ مزید کشیدگی پورے مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔
چینی وزارت خارجہ نے بیان میں زور دیا کہ ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے اور تمام فریقین تحمل اور مذاکرات کی طرف واپس آئیں۔
چین نے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے سفری ہدایات جاری کی ہیں، اسرائیل میں موجود چینی شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے یا ممکنہ طور پر مصر جانے کے لیے طابا بارڈر کراسنگ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ایران میں موجود چینی شہریوں کو بھی جلد از جلد ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا ہے، اور زمینی راستوں کے طور پر آذربائیجان، آرمینیا، ترکی اور عراق کی نشاندہی کی گئی ہے۔
عالمی سطح پر ردعمل
واضح رہے کہ پاکستان، چین اور روس کا اصولی موقف خطے میں ایران کی خودمختاری کے تحفظ اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف، امریکا اور اسرائیل کی حالیہ کارروائیاں خطے میں سلامتی کے تناظر میں شدید خدشات کو جنم دے رہی ہیں اور ممکنہ طور پر عالمی سطح پر سفارتی اور سیاسی اثرات مرتب کریں گی۔
اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایران کے مندوب نے زور دیا کہ تمام ممالک تحمل اور تحمل مزاجی سے کام لیں، غیر ضروری کشیدگی سے گریز کریں اور مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات اور مکالمے کو ترجیح دیں تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم رہ سکے۔