امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی برقرار رکھنے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کو ناکام بنانے کے لیے امریکی بحریہ کو ایک بڑا مشن سونپ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ کے جنگی جہاز تجارتی آئل ٹینکرز کو اپنی حفاظت میں اس اہم سمندری راستے سے گزاریں گے۔
تفصیلات کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست جنگ کے بعد تہران نے دھمکی دی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر اس جہاز کو نشانہ بنائے گا جو ان کے احکامات کی خلاف ورزی کرے گا۔ ان حالات کے پیشِ نظر صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں واضح کیا “امریکہ دنیا بھر میں توانائی کی آزادانہ ترسیل کو ہر صورت یقینی بنائے گا۔ ہماری معاشی اور عسکری قوت دنیا میں سب سے عظیم ہے اور ہم کسی کو عالمی تجارت روکنے کی اجازت نہیں دیں گے۔”
صرف فوجی تحفظ ہی نہیں، بلکہ صدر ٹرمپ نے امریکی سرکاری ادارے کو ہدایت کی ہے کہ وہ خلیجِ فارس میں کام کرنے والی شپنگ کمپنیوں کو “پولیٹیکل رسک انشورنس” اور مالی ضمانتیں فراہم کرے۔ یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ عالمی انشورنس کمپنیوں کی جانب سے کوریج ختم کیے جانے کے باوجود تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہ سکے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ ایران کی جانب سے اس راستے کو “غیر سرکاری طور پر” بند کرنے کی کوششوں سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ فیصلہ نہ صرف ایران کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے بلکہ یہ عالمی معیشت کو بڑے بحران سے بچانے کی ایک تزویراتی کوشش بھی ہے۔