تیل کی عالمی منڈی بے قابو، پیداوار بڑھانے کے باوجود خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

تیل کی عالمی منڈی بے قابو، پیداوار بڑھانے کے باوجود خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے جس کے اثرات عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں پر نمایاں طور پر ظاہر ہونے لگے ہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان برقرار ہے اور برینٹ خام تیل بڑھ کر 83 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق خطے میں کشیدگی اور خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال پر غیر یقینی کیفیت کے باعث سرمایہ کاروں نے تیل کی خریداری میں اضافہ کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے فیصلے کو عالمی منڈیوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم خطرات کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان سے عرب ممالک جانیوالے مسافروں کیلئے آج کی پروازوں کی صورتحال

ادھر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کورین اسٹاک ایکسچینج میں تقریباً 6 فیصد جبکہ جاپان کی مارکیٹ میں 3 فیصد تک گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص فروخت کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور ممکنہ معاشی اثرات ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا یا تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی مہنگائی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں ترقی پذیر معیشتیں سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب سفارتی کوششوں پر مرکوز ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *