بیرون ملک جانیوالے افراد کون سا متبادل روٹ لے سکتے ہیں،کرایہ کتنا ہوگا،تفصیلات جانیے

بیرون ملک جانیوالے افراد کون سا متبادل روٹ لے سکتے ہیں،کرایہ کتنا ہوگا،تفصیلات جانیے

ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال نے بیرونِ ملک سفر کرنے والے پاکستانیوں کیلئے غیر معمولی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

ویزا اور کنفرم ٹکٹ رکھنے کے باوجود بڑی تعداد میں مسافر پروازوں کی منسوخی اور محدود آپریشن کے باعث ایئرپورٹس پر پھنس گئے ہیں جبکہ خلیجی ممالک جانے والی بیشتر پروازیں تاحال معطل یا انتہائی محدود ہیں۔

اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر عدنان پراچہ کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر وہ افراد ہیں جو ملازمت یا عمرہ کی غرض سے خلیجی ممالک جانا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث خلیجی خطہ بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے جس کی وجہ سے پاکستان سے متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور عمان جانے والی پروازوں کی کنیکٹیویٹی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بیرون ملک جانیوالے شہریوں کیلئے فلائٹس سے متعلق اہم خبر

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کیلئے بھی صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں، تاہم جدہ، ریاض اور دمام کیلئے محدود پروازیں دستیاب ہیں۔ عمرہ زائرین کی بڑی تعداد کے باعث ان روٹس پر بھی شدید دباؤ ہے۔ کرایوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور جو ٹکٹ چند روز قبل تقریباً 65 ہزار روپے میں دستیاب تھا وہ اب ایک لاکھ دس سے ایک لاکھ بیس ہزار روپے تک بھی دستیاب نہیں، جس سے مسافروں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کارروائیوں کے آغاز پر کراچی ایئرپورٹ پر متعدد غیر ملکی طیارے موجود تھے تاہم فضائی حدود کی غیر یقینی صورتحال کے باعث وہ مرحلہ وار اپنے ممالک واپس چلے گئے۔ اس وقت خلیجی ممالک کی اکثر پروازیں بند ہیں جس سے ایوی ایشن انڈسٹری کو بھی مالی نقصان کا سامنا ہے جبکہ ایسے ورکرز جن کے ویزے لگ چکے ہیں اور مدت ختم ہونے کے قریب ہے، شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کے پاس موجود ہتھیاروں کا ذخیرہ کتنا ہے؟ٹرمپ نے اہم انکشاف کر دیا

یورپ اور امریکا جانے والے مسافروں کیلئے البتہ محدود متبادل راستے دستیاب ہیں۔ ماہرین کے مطابق دو بڑے گیٹ وے فعال ہیں ایک ترکی کے راستے اور دوسرا سعودی عرب کے ذریعے۔ مسافر پہلے سعودی عرب جا کر وہاں سے یورپ یا امریکا کی کنیکٹنگ پرواز حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی کینیڈا اور لندن جانے والی پروازیں متبادل فضائی روٹس استعمال کر رہی ہیں جو ایران اور افغانستان کی فضائی حدود سے گریز کرتے ہوئے وسطی ایشیائی راستوں، مثلاً ازبکستان کی سمت سے گزرتی ہیں، جس کے باعث انہیں نسبتاً محفوظ تصور کیا جا رہا ہے۔

سفری ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں کشیدگی کم نہیں ہوتی، خلیجی روٹس پر مکمل بحالی کا امکان کم ہے۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ روانگی سے قبل اپنی متعلقہ ایئرلائن سے پرواز کی تصدیق ضرور کریں اور ممکنہ تاخیر یا منسوخی کیلئے متبادل انتظامات رکھیں۔ موجودہ صورتحال نے نہ صرف مسافروں بلکہ بیرونِ ملک افرادی قوت بھیجنے کے عمل کو بھی شدید متاثر کیا ہے، اور آئندہ چند دن اس حوالے سے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *