گزشتہ روز ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں کے بعد خطے میں صورتحال نہایت کشیدہ ہو گئی ہے،ان حملوں کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا پہلا باضابطہ بیان سامنے آیا ہے
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران انتقام کو اپنا جائز حق اور قومی فرض سمجھتا ہے اور اس فرض کی ادائیگی کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
صدر پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم امہ کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم صدمہ ہے۔
ایران اس موقع پر کمزور نہیں پڑے گا بلکہ مزید اتحاد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھے گا،ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو اس اقدام کی بھاری قیمت چکانا ہوگی اور ایران اپنی خودمختاری اور وقار کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جواب دے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ثابت قدمی، حکمت اور راہِ حق میں استقامت کی علامت تھے۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم رہنما نے عزت، بصیرت اور مزاحمت کا ایسا ورثہ چھوڑا ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا،عباس عراقچی کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے مشکل ترین حالات میں بھی استقلال کا مظاہرہ کیا اور ان کا بلند کیا گیا پرچم مزید بلندیوں تک پہنچایا جائے گا
ادھر ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آ گئی ہے،اسی تناظر میں پاکستان کے وزیراعظم نے اپنا دورۂ روس منسوخ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور ہنگامی مشاورت کے پیشِ نظر کیا گیا۔