ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک بڑا جوابی حملہ کرتے ہوئے تل ابیب کو درجنوں میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے اور تل ابیب شہر کے مختلف حصوں میں ہونے والے ان زوردار دھماکوں نے زمین ہلا کر رکھ دی اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد بلند و بالا عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ کئی مقامات پر خوفناک آگ بھڑک اٹھی ہے۔
تفصیلات کے مطابق میزائل گرنے سے قبل تل ابیب کی فضائیں سائرنوں کی آواز سے گونج اٹھیں جس کے فوراً بعد یکے بعد دیگرے کئی دھماکے ہوئے جنہوں نے شہر کے دفاعی نظام کو بھی چیلنج کر دیا۔
حملے کے فوری بعد اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں کو گھیرے میں لے لیا ہے اور ایمرجنسی سروسز ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایران کی جانب سے اس کارروائی کو حالیہ اشتعال انگیزیوں کا منہ توڑ جواب قرار دیا جا رہا ہے جس نے خطے میں ایک وسیع البنیاد جنگ کا خطرہ مزید بڑھا دیا ہے۔
اسرائیلی حکام نے شہریوں کو بنکرز میں رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ عالمی سطح پر اس حملے کے بعد شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تل ابیب پر یہ براہِ راست حملہ تزویراتی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے قبل اسرائیل خود کو محفوظ تصور کر رہا تھا، لیکن اب جنگ کی آگ اس کے مرکز تک پہنچ چکی ہے۔
اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے درست اعداد و شمار جمع کیے جا رہے ہیں جبکہ اسرائیل کی جانب سے بھی مزید سخت جوابی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی قیادت میں تضاد: صدر ٹرمپ نے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے دعوے کی تردید کر دی

