تہران : خطے میں جاری کشیدگی نے اس وقت ایک نئی اور خطرناک صورت اختیار کر لی جب ایران نے امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے جواب میں اسرائیل پربیلسٹک میزائلوںسے براہِ راست حملہ کر دیا۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، ان میزائلوں نے تل ابیب کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد پورے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے تل ابیب میں واقع اسرائیلی وزارتِ دفاع کی عمارت کو نشانہ بنایا ہے۔
حملوں کے بعد شہر کی متعدد بلند و بالا عمارتوں میں شدید آگ بھڑک اٹھی ہے، جبکہ 20 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ سڑکوں پر کھڑی درجنوں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا ہے۔
حملوں کی گونج صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہی بلکہ عرب میڈیا کے مطابقدبئی مرینہ اور دبئی ہلز جیسے علاقوں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام فعال ہے اور ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب، واشنگٹن سے جاری ہونے والے بیانات میں امریکی حکام نے ایران پر حملے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ایسی انٹیلیجنس معلومات تھیں جن سے ثابت ہوتا تھا کہ ایران حملے میں پہل کرنے والا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکی مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ان کے پاس جوابی حملے کے سوا کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں تھا۔
مشرقِ وسطیٰ کی یہ صورتحال اس وقت ایک ایسے نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں معمولی سی غلط فہمی بھی ایک بڑی عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب ایران کے اگلے قدم اور اسرائیل کے ممکنہ جوابی وار پر جمی ہوئی ہیں۔