پی ٹی آئی اینڈ کمپنی پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث ہے، عطااللہ تارڑ

پی ٹی آئی اینڈ کمپنی پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث ہے، عطااللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے عمران خان کے بیٹے کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے قومی مفاد کے خلاف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بعض عناصر بار بار ملک کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور سازش کرتے ہیں، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘قومی مفاد سب سے مقدم ہے، ہم سب جو کچھ بھی ہیں پاکستان کے مرہون منت ہیں، سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن ملک کے خلاف بات کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی‘۔ پی ٹی آئی اینڈ کمپنی پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث ہے، عوام ان سازشوں سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:’ اب بھی نہ مانیں تو آپ کی مرضی‘ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کو بڑی پیشکش کردی

انہوں نے کہا کہ حالیہ عالمی اور علاقائی صورتحال میں پاکستان نے نہایت مؤثر سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ملک کی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور سید عاصم منیر نے سفارتی محاذ پر پاکستان کا مؤقف مضبوط انداز میں پیش کیا، جسے عالمی برادری نے سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کو پاکستان کو بیل آؤٹ پیکیج نہ دینے کے لیے خط لکھا، پہلے پی ٹی آئی آئی ایم ایف کو خلط لکتھی ہے کہ پاکستان کو قرضہ نہ دیا جائے اور اب بانی پی ٹی آئی کا بیٹا پاکستان سے جی ایس پی پلس اسٹیس واپس لینے کے لیے عالمی سازش کا حصہ بن رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عارف آجاکیہ برطانیہ میں بھارت کے لیے کمپین چلاتا ہے جبکہ زلفی بخاری اینڈ کمپنی پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ‘معرکہ حق’ میں کامیابی کے بعد دنیا پاکستان کو ایک قابل اعتماد ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے، جبکہ بھارت پاکستان کی سفارتی کامیابیوں سے پریشان دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنیوا میں ہونے والے اہم اجلاس میں پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں اجاگر ہوا اور عالمی سطح پر غیر معمولی توجہ حاصل کی گئی۔

انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک مخصوص ‘کلٹ’ یہ بیانیہ دے رہا ہے کہ اگر ایک شخصیت نہ ہو تو پاکستان نہیں، جو کہ انتہائی خطرناک سوچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘کوئی بھی سیاسی لیڈر ملک سے بڑا نہیں ہو سکتا’۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ‘گھڑی چوری کرنا اور فارن فنڈنگ لینا کوئی قربانی نہیں، آپ کیا کر لیں گے؟ آپ 4 بندے بھی اکٹھے نہیں کر سکتے، آپس میں تقسیم ہیں، پارٹی کے اندر 10 گروپس بن چکے ہیں’۔ انہوں نے پارٹی کے اندرونی اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قیادت خود انتشار کا شکار ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے عالمی معاملات پر متوازن مؤقف سامنے نہیں آتا، اور بعض اہم عالمی ایشوز پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ لوگ جو بھی کر لیں، پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا’۔

مزید پڑھیں:ّپی ٹی آئی پر پابندی، خیبر پختونخوا میں گورنر راج، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا اہم بیان سامنے آگیا

عمران خان کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی شخصیات اور ان کے حامی ملک کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں، جو ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کو اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہیے اور ملک کے وقار کو نقصان پہنچانے سے باز رہنا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت تنقید کو جمہوری حق سمجھتی ہے، مگر قومی سلامتی اور ریاستی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘شخصیت پرستی اور انا کی سیاست ملک کے لیے نقصان دہ ہے’۔

آخر میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور حکومت تمام تر چیلنجز کے باوجود استحکام اور بہتری کے لیے کام کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے مبینہ طور پر بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیم بی این ایم کے ساتھ روابط کی خبریں سامنے آنے کے بعد سیاسی و سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق جنیوا کے سفارتی ماحول میں ہونے والی حالیہ پیش رفت نے ایک نئے اور حساس اتحاد کی نشاندہی کی ہے، جس کا مقصد پاکستان کی معیشت کو عالمی سطح پر دباؤ میں لانا بتایا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان اور بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے سربراہ ڈاکٹر نسیم کے درمیان ملاقاتوں میں ایک مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا، جس کے تحت یورپی یونین سے پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس مطالبے کو انسانی حقوق کے بیانیے کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے، تاہم مبصرین اسے پاکستان کے خلاف ایک منظم معاشی دباؤ قرار دے رہے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ڈاکٹر نسیم کے ماضی اور ان کے مبینہ روابط پر سوالات اٹھے، جنہیں بلوچستان میں علیحدگی پسند سرگرمیوں اور دہشتگرد تنظیم بی ایل اے سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ سیکیورٹی حلقوں کے مطابق اس نوعیت کی شخصیات کے ساتھ کسی بھی سطح پر ہم آہنگی قومی مفادات کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔

واضح رہے کہ اگر یورپی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات براہ راست ملکی معیشت، برآمدات اور روزگار پر پڑ سکتے ہیں، جس سے معاشی عدم استحکام کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

ڈاکٹر نسیم کی قیادت میں بی این ایم طویل عرصے سے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کے خلاف بیانیہ پیش کرتی رہی ہے، اور موجودہ صورتحال میں مختلف سیاسی حلقوں کا ایک ہی مؤقف پر نظر آنا ریاستی سطح پر سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *