انٹونی بلنکن نے ایران میں رجیم چینج کے ٹرمپ دعوے کو مسترد کردیا

انٹونی بلنکن نے ایران میں رجیم چینج کے ٹرمپ دعوے کو مسترد کردیا

امریکا کے سابق وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں رجیم چینج کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمینی حقائق اس بیان کی تائید نہیں کرتے اور ایران میں حکومتی ڈھانچہ بدستور قائم ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انٹونی بلنکن نے کہا کہ ایران کی سیاسی صورتحال پیچیدہ ہے اور کسی بھی بیرونی دعوے کے برعکس وہاں فوری طور پر حکومت کی تبدیلی کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘کوئی بھی حتمی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ ایران میں موجودہ نظام کب تک برقرار رہے گا، تاہم اس وقت ایسی کوئی بڑی اندرونی بغاوت سامنے نہیں آئی جو رجیم چینج کی نشاندہی کرے’۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے میزائل حملوں کا خوف، اسرائیلی قیادت کا تل ابیب خالی کرنے کا منصوبہ، یونانی جزائر پر منتقل ہونے کی تجویز زیر غور

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد بھی ملک میں حکومتی نظام کے خلاف کوئی بڑی عوامی یا عسکری بغاوت دیکھنے میں نہیں آئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے اب بھی کنٹرول میں ہیں۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے ایران کی نیوی اور ایئر فورس کو تباہ کر دیا ہے اور ایرانی قیادت کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ‘یہ ایک مکمل رجیم چینج ہے’۔ تاہم ان کے اس بیان کو عالمی سطح پر شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

دفاعی اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں رجیم چینج ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہوتا ہے، جس کے لیے نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی اور سماجی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صرف فوجی کارروائیوں کے ذریعے مکمل نظام کی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی جب تک اندرونی سطح پر مضبوط عوامی تحریک یا ادارہ جاتی ٹوٹ پھوٹ نہ ہو۔

مزید پڑھیں:ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کا واحد راستہ، سابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ٹرمپ کو اہم تجویز پیش کردی

میڈیا رپورٹس  کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک عرصے سے جاری ہے، تاہم حالیہ بیانات نے اس تنازع کو ایک نئی شدت دے دی ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس قسم کے دعوے زیادہ تر سیاسی بیانیے کا حصہ ہوتے ہیں، جن کا مقصد داخلی یا بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل کرنا ہوتا ہے۔

مزید برآں، خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ایران میں کسی بھی غیر متوقع تبدیلی کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ توانائی کی منڈیاں، علاقائی سیکیورٹی اور عالمی سفارتی تعلقات سب اس پیش رفت سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *