امریکا اور ایران کے درمیان اچانک جنگ بندی کے اعلان نے تہران کی سڑکوں پر ایک غیر معمولی اور پیچیدہ صورتحال پیدا کر دی ہے۔
بدھ کی صبح جیسے ہی ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے جنگ بندی اور امریکا کی مبینہ پسپائی کا اعلان کیا گیا، شہریوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ جہاں ایک طرف حکومت کے حامی مظاہرین اسے ایک بڑی ’ اسٹرٹیجک فتح‘ قرار دے کر نعرے لگا رہے تھے، وہیں دوسری جانب شہریوں کا ایک بڑا طبقہ اس معاہدے کو شدید شک و شبہات کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دشمن کو عبرتناک شکست کا سامنا، امریکا ہمارا 10 نکاتی منصوبہ قبول کرنے پر مجبور ہوگیا، ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل
تہران کے مختلف چوکوں پر مظاہرین کے گروہوں نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان کے پرچم نذرِ آتش کیے۔
عاجل | الإيرانيون في العاصمة طهران يحتفلون بإعلان انتصار الجمهورية الإسلامية على العدوان الأمريكي-الإسرائيلي pic.twitter.com/prAq5OKHlB
— إيران بالعربية (@iraninarabic_ir) April 7, 2026
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس جنگ بندی کو تسلیم کیا ہے تو وہ اس فیصلے پر راضی ہیں، کیونکہ انہیں اپنے لیڈر کی بصیرت پر مکمل اعتماد ہے۔
تاہم، بہت سے شہریوں نے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کبھی بھی قابلِ اعتبار نہیں رہا اور خدشہ ظاہر کیا کہ یہ جنگ بندی صرف اسرائیل کو دوبارہ منظم ہونے کے لیے وقت فراہم کرنے کی ایک سوچی سمجھی چال ہو سکتی ہے۔
شہریوں کے اس ہجوم میں حیرت اور تذبذب کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔ تہران کی ایک خاتون نے سڑک کنارے لگے اس بڑے اشتہاری بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جس پر آبنائے ہرمز کو ہر صورت بند رکھنے کا عزم درج تھا۔
“Iranians in the capital Tehran celebrate the declaration of victory over America” pic.twitter.com/volM3JJ06Z
— China in English (@En_chinaNews) April 8, 2026

