سینئر صحافی احمد منظور نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وزارت خارجہ نے بظاہر تردید لیکن اشارتا تصدیق کردی ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات جاری ہیں.
احمد منظور کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے بظاہر ان مذاکرات کی تردید کی ہے، تاہم اس کے بیان میں ایسے اشارے موجود ہیں جو اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ رابطے جاری ہیں۔
احمد منظور کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی پندرہ تجاویز کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ اس کے جواب میں ایران نے اپنی پانچ شرائط سامنے رکھی ہیں۔ ان شرائط کی نوعیت اور تفصیلات تاحال منظرِ عام پر نہیں آئیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
بڑی بریکنگ۔۔۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بظاہر تردید لیکن اشارتا تصدیق کر دی ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات جاری ہیں۔۔۔
تب ہی امریکہ کی پندرہ تجاویز مسترد کی گئیں اور اپنی پانچ شرائط رکھی گئیں۔۔ pic.twitter.com/WSuetbNIet— Ahmed Mansoor (@AhmedMansorReal) March 25, 2026
یہ بھی پڑھیں: ایران اس جنگ کو اپنی شرائط اور اپنے وقت پر ختم کرے گا، ایرانی حکام
دوسری جانب ایران نے جنگ بندی کی امریکی تجاویز مسترد کردیں ہیں۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد انہیں غیر مناسب قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق جنگ بندی کی پہلی شرط حملوں کا مکمل خاتمہ ہے، جبکہ ایران اس جنگ کو اپنی شرائط اور اپنے مقررہ وقت کے مطابق ختم کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اپنی شرائط پوری ہونے تک دفاعی آپریشنز جاری رہیں گے۔ ایرانی عہدیدار نے پریس ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی پیشکش حد سے تجاوز کے مترادف ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق علاقائی ثالث کے ذریعے پیغام بھیج دیا گیا ہے کہ ایران اپنا دفاع جاری رکھے گا۔

