صدر ٹرمپ کا جنگ کے خاتمے کا اشارہ، “ایران میں اب نشانہ بنانے کے لیے کوئی ہدف باقی نہیں بچا”

صدر ٹرمپ کا جنگ کے خاتمے کا اشارہ، “ایران میں اب نشانہ بنانے کے لیے کوئی ہدف باقی نہیں بچا”

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری تنازع کے حوالے سے ایک بار پھر انتہائی پراعتماد بیان دیتے ہوئے جنگ کے جلد خاتمے کا اشارہ دیا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو توقع سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور اب وہاں نشانہ بنانے کے لیے کوئی بڑے اہداف باقی نہیں رہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن اپنی منصوبہ بندی سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور وہ تمام اہداف جو چھ ماہ کے لیے مقرر کیے گئے تھے، انہیں وقت سے پہلے ہی حاصل کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ “جنگ بہت اچھی جا رہی ہے، ایران میں اب بہت تھوڑا کچھ باقی ہے اور جب میں چاہوں گا یہ سب ختم ہو جائے گا۔” صدر نے مزید کہا کہ ایران گزشتہ 47 سال سے جو تباہی پھیلا رہا تھا، اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔

انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے علاقائی کردار پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ تہران کی دشمنی صرف امریکہ اور اسرائیل تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ خلیجی ریاستوں کا بھی دشمن بن چکا ہے اور انہیں بھی نشانہ بناتا رہا ہے۔

صدر کے مطابق جنگ کے خاتمے کا فیصلہ اب مکمل طور پر ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ ایران کی تزویراتی کمر توڑنے کے بعد جلد اس مہم کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

مزید پڑھیں: جنگ کا 11واں روز، ٹرمپ کے مشیر امریکا کو ایران جنگ سے نکلنے کی تجویز دینے لگے

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *