امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے جس کے اثرات عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں پر نمایاں طور پر ظاہر ہونے لگے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان برقرار ہے اور برینٹ خام تیل بڑھ کر 83 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں کشیدگی اور خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال پر غیر یقینی کیفیت کے باعث سرمایہ کاروں نے تیل کی خریداری میں اضافہ کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے فیصلے کو عالمی منڈیوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم خطرات کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان سے عرب ممالک جانیوالے مسافروں کیلئے آج کی پروازوں کی صورتحال

