امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران میں ایسی قیادت دیکھنا چاہتا ہے جو ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے بعد ایران کا نقشہ شاید ویسا نہ رہے جیسا اس وقت نظر آ رہا ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ کسی سمجھوتے یا مفاہمت کی تلاش میں نہیں ہے،ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ کرد فورسز ایران میں داخل ہوں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے ایران کی مدد کرنے کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔
صدر ٹرمپ نے ایران میں اسکول پر حملے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے،گفتگو کے دوران انہوں نے برطانیہ کے وزیر اعظم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ برطانیہ اب مشرق وسطیٰ میں دو طیارہ بردار جہاز بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔
امریکہ کو اس وقت برطانیہ کی ضرورت نہیں، ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایسے ممالک کو یاد رکھے گا جو جنگ کے بعد شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں،دوسری جانب ڈیلاویئر میں ایک تقریب کے دوران کویت میں ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے چھ امریکی فوجیوں کی میتیں پہنچا دی گئیں، اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول نے تقریب میں شرکت کی ۔