عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر مستحکم رہنے کا سلسلے جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق برینٹ خام تیل 113 اور ڈبلیو ٹی آئی 103 ڈالرز فی بیرل میں فروخت ہوا جبکہ اماراتی مربن خام تیل 116 ڈالرز فی بیرل کی سطح پر موجود ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر گیس کی قیمت معمولی کمی کے ساتھ 2 ڈالرز 83 سینٹس فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر ہوئی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے یقینی نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں اس اضافے سے پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
قبل ازیں عالمی مالیاتی ادارے ’آئی ایم ایف‘ نے ایران میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کو عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین ’الارم کلک‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس تنازع کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سپلائی چین کی معطلی اور تجارتی راستوں میں رکاوٹ کے باعث عالمی جی ڈی پی کو 2 فیصد سے 3فیصد تک کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
آئی ایم ایف کے چیف ماہرِ معیشت نے اپنے خصوصی مضمون میں لکھا ہے کہ ایران جنگ عالمی معیشت کے لیے ایک ‘بڑے جھٹکے’ سے کم نہیں ہے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ کشیدگی طویل ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی کی شرح میں 10فیصد سے 15 فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
ادھر پاسدارانِ انقلاب ایران نےمیزائلوں اورڈرونز سے خطے میں امریکا کے 5 فوجی اڈوں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز،ڈرون تنصیبات اور مختلف مقامات پر موجود امریکا اور اسرائیل کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔