سوچیں اگر آپ اپنے پالتو کتے یا بلی سے بات کر سکیں اور وہ آپ کو جواب بھی دے.سائنسدان اب یہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،جانوروں کی بولی سمجھنا اور ان کے ساتھ گفتگو صدیوں سے نہ صرف انسان کی دلچسپی کا محور رہا ہے بلکہ صدیوں اس پر تحقیق بھی کی جاتی رہی۔
برسوں سے جاری سائنس کی موضوع بحث تحقیق جس میں جانوروں کی بولی سمجھنا اور ان کے ساتھ گفتگو کرنے کےطریقوں پر غور کیا جاتا رہا ہے اس سائنسی تحقیق کو بڑھانے کے لیے 2025 میں ’کولر ڈولِٹل‘ چیلنج کا انعقاد کیا گیا۔ اس دلچسپ مقابلے سائنسدانوں نے جانوروں کی آوازوں کو ڈیٹا کی شکل میں جمع کیا اور پھر اس میں اے آئی ماڈلز کے ذریعے پیٹرنز تلاش کیے گئے جس میں یہ دیکھا گیا کہ کون سی آواز کس مطلب کے لیے استعمال ہوتی ہے.
اس سلسلے میں ایک مقابلے کا انقعاد ہوا جسے ایک امریکی ٹیم نے جیتا۔ امریکی ٹیم نے اس میں کامیا بی سے دکھایا کہ انسان جانوروں سے بات کرسکتے ہیں اس مقابلے میں کیے جانے والے تجربات میں یہ ثابت کیا گیا کہ ڈولفن کی کچھ سیٹیاں انسانوں کے الفاظ کی طرح کام کر سکتی ہیں کچھ آوازیں مخصوص حالات سے جڑی ہوتی ہیں، جیسے خطرہ، خوراک، یا رابطہ اب تحقیق صرف سننے تک محدود نہیں رہی
بلکہ اس میں جدید ٹیکنالوجی کی بھی مدد لی جا رہی ہے ۔جس کے تحت ایسے آلات کا استعمال کیا جا رہا جو کہ جدید ٹیکنالوجی کے حامل ہیں یہ خاص آلات ایسے مائیکروفون پر مبنی ہیں جوایسے شور کو بھی پکڑ سکتے ہیں جن کو انسانی کان نہیں سن سکتا مثلاً چمگادڑوں کی مخصوص آوازیں۔
اس سلسلے میں بی بی سی کےایک پروگرام ’دی ڈاکیومنٹری پوڈکاسٹ میں میں ماحولیاتی اور حیاتیاتی تنوع کی ماہر پروفیسر کیٹ جونز نے بتایا کہ انسانی کان تقریباً 20 کلوہَرٹز تک سن سکتا ہے، لیکن کچھ چمگادڑیں اس سے کہیں زیادہ 212 کلوہَرٹز تک کی آوازیں پیدا کر سکتی ہیں،اور اوروہ اس آواز کا استعمال بالکل اسی طرح کرتی ہیں جیسے کوئی بھی ممالیہ ایک دوسرے کو پریشانی یا خوفزدہ ہونے سے متعلق آگاہ کرنے پر کرتے ہیں۔
اگر یہ تحقیق کامیاب ہو جاتی ہے تو انسان جانوروں کے جذبات بہتر سمجھ سکیں گی جبکہ جنگلی حیات کے تحفظ میں مدد ملے گی اورپالتو جانوروں کے ساتھ’حقیقی کمیونیکیشن‘ممکن ہو سکتی ہے لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے، ابھی ہم ’مکمل گفتگو‘ سے کافی دور ہیں۔ ہم صرف آوازوں کے مطلب سمجھنے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔