ٹرمپ کی ڈیڈ لائن کے آخری لمحات میں کیا کچھ ہوا؟دلچسپ اور تیز ترین سفارتی کوششوں کی تفصیلات آگئیں

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن کے آخری لمحات میں کیا کچھ ہوا؟دلچسپ اور تیز ترین سفارتی کوششوں کی تفصیلات آگئیں

ایران اور امریکہ کے درمیان  جنگ بندی سے قبل ٹرمپ کی ڈیڈ لائن کے آخری لمحات میں کیا کچھ ہوا ؟تیز ترین سفارتکاری کیسے ہوئی کس نے کیا کردار ادا کیا اس سے متعلق امریکی میڈیا نے اہم معلومات رپورٹ کی ہیں۔

امریکی اخبار کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات سے کنارہ کشی کے اشارے ملنے کے بعد عالمی سطح پر ہنگامی سفارتکاری کا آغاز ہوا۔ اس دوران پاکستان کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے ایرانی چینی  ہم منصبوں سے رابطے کیے تاکہ صورت حال کو سنبھالا جا سکے اور جنگ بندی کے امکانات کو باقی رکھا جا سکے۔

 قطر، مصر اور ترکی نے بھی ایرانی قیادت سے براہ راست رابطے قائم کیے اور مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ان ممالک کی کوششوں کے نتیجے میں ایران کی جانب سے پانی کی اہم گذرگاہ، آبنائے ہرمز، کھولنے پر رضامندی ظاہر کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایرانی تجاویز پر حیران کن بیان سامنے آگیا

چین نے اس معاملے میں آخرکار مداخلت کی اور ایران کو مذاکرات پر رضامند کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اخبار کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل نے امریکی وقت شام پانچ بجے صدر امریکہ کو سیز فائر کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جس پر صدر نے کہا کہ اگر ایران ان نکات پر رضامند ہے تو امریکہ بھی اس سے اتفاق کرتا ہے۔

یہ پیش رفت عالمی اور علاقائی طاقتوں کی مشترکہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس نے ممکنہ تنازعہ کو روکنے اور خطے میں امن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *